پاکستانی سیاست میں بیرونی فیکٹر

 
نواز شریف اپنی نا اہلی کے فیصلے کے بعد ایک طرف مزاحمتی سیاست کا تاثر دے رہے تھے مگر دوسری جانب ان کے بیرون ملک رابطوں کی خبریں بھی گرم تھیں۔ کچھ با خبر لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نے کئی ہفتوں تک این آر او کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی، حالانکہ سعودی عرب کیساتھ شریف فیملی کے تعلقات کی طویل تاریخ ہے۔ مگر اس با ر وہاں سے سرد مہری دکھائی گئی، اس بارے میں ڈھکے چھپے الفاظ کے بجائے دو ٹوک انداز اختیار کیا گیا۔ آخر اسکی وجہ کیا بنی؟ اہم تر ین ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاکستان سے تعلقات انتہائی حساس نو عیت کے ہیں۔ وہ پاکستانی اداروں کیساتھ اعتماد کے رشتے کو ہر صورت تر جیح دیتا ہے۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے تناظر میں بھی افواج پاکستان کو ایک اہم دوست کے طور پر دیکھتاہے۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے افواج پاکستان کیساتھ روایتی تعلقات تھے، جس کی وجہ سے پرویز مشرف نے نواز شریف کی سزا ختم کی تھی اور انہیں آزاد کرکے سرور پیلس روانہ کیا تھا۔ سعودی عرب نے ہی آرمی چیف جنرل پرویز مشر ف کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد تحفے میں دبئی اور لندن کے فلیٹس دئیے تھے۔ دوسری طرف دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے بھی سعودی عرب سے گہرے سیاسی روابط ہیں اور ولی عہد کیساتھ گہری دوستی بھی ہے ،کچھ حلقو ں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاست کے حوالے سے دبئی کے حکمران کی فیصلہ سازی ہی سعودی عر ب کی پالیسی بن گئی ۔ یہ جو تاثر دیا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو نوازشریف قبول نہیں لیکن شہباز شریف ہیں ، جو یکسر غلط ہے۔ فوج اس معاملے میں غیر جانبدار کھڑی نظر آتی ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز کیس اگر کھلتاہے ، تو وہ قانون کے تحت اداروں کیساتھ ہو گی ۔اس وقت میرٹ پر مبنی فیصلے ہی ملک کے بہترین مفا د میں ہیں۔ جس کے لیے یہ سو چ پائی جاتی ہے کہ عدالت کسی دباؤ کے بغیر حقائق کے مطابق فیصلے کرے جبکہ فوج اداروں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.