پاکستان میں ہر 3 میں سے ایک خاتون ہڈیوں کے بھربھرے پن کی شکار

ڈاکٹر صالح نے کہا ہے کہ ایک خاتون کے لیے کیلشیم کے 1200 یونٹس روزانہ غذا میں لینا ضروری ہے لیکن پاکستان کی80 فیصد خواتین روزانہ 300 سے400 یونٹس کیلشیم کے لیتی ہیں، طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو سرکاری سطح پر کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی کی جانب توجہ دینی ہوگی۔
ورلڈ آسٹوپراسس یعنی ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب میں ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر توفیق، آغا خان اسپتال کی ڈاکٹر صالح ، لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر عامر نے ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچاؤ کے لیے مفید مشورے دیا۔ طبی ماہرین نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وٹامن ڈی کی کمی خاموش بیماری ہے، جس کے بارے میں معلوم اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان کسی حادثے کا شکار نہ ہو، اسے فریکچر نہ ہو، وٹامن ڈی کی کمی کی بنیادی وجہ روز مرہ کے معمولات ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کا شکار جسم کیلشیم کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن دھوپ میں بیٹھنے کا معمول جہاںکم ہوا ہے، وہیں صحت مندانہ سرگرمیوں پر بھی لوگوںکادھیان کم ہے، یہی وجہ ہے کہ ہڈیوں کی کمزوری کی شکایتیں اب عام ہیں۔
This entry was posted in صحت, اہم خبریں. Bookmark the permalink.