پرانے کیسوں سے سراغ مل سکتا ہے

آج سپیشلائزیشن کا دور ہے، ہر شعبے سے متعلقہ لوگوں کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ ماضی کی نسبت جس سے ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس میں تفتیش چونکہ سب سے اہم شعبہ ہوتاہے، اسی لئے پرانے نظام کے برعکس پولیس آرڈر 2002 میں اسے الگ شعبہ بنا دیا گیا، آئی جی سے لے کر کانسٹیبل تک ہزاروں آسامیاں پیدا کی گئیں، جن پر بھرتی ہونیوالے تفتیش کاروں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سائنسی بنیادوں پر جدید تربیت دی جانی تھی۔ فنگر پرنٹ 20 سال پرانی چیز ہے، اب ڈی این اے، فوٹو گرافی، سمارٹ فونز کی لوکیشن جیسی بے شمار چیزیں ہیں جن سے کچھ نہ کچھ سراغ مل سکتا ہے مگر موجودہ تفتیش کار یہ چیزیں استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں اس کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔ تفتیش کاروں کی ہزاروں آسامیوں پر بھرتی تو کر لی گئی مگر الگ سے شعبہ نہیں بنایا اور نہ ہی انہیں تربیت دی گئی، اس نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے کیونکہ سیاستدان چاہتے ہیں کہ سب کچھ اس کی مرضی سے ہو اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ پروفیشنلزم نہ ہو، پولیس الجھی ہوئی ہو، اسے کچھ پتہ نہ ہو کہ کرنا کیا ہے۔ اسی لئے انہوں نے پروفیشنلزم اور میرٹ کو ختم کیا، سینئر کی جگہ جونیئرز کو لگا دیا۔

تھانوں میں اس وقت جو ایس ایچ اوز تعینات ہیں وہ متعلقہ ایم پی ایز اور ایم این ایز کی مرضی سے ہیں، یہ بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ قتل وغارت کو کم کیا جائے کیونکہ ان کی جانب سے کبھی بھی اس حوالے سے تحقیق کی گئی اور نہ ہی تحریک آئی۔ قصور میں یہ پہلا واقعہ نہیں تھا ،کئی واقعات اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ زینب کا واقعہ چونکہ میڈیا پر آگیا، اس لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن اس سے قبل 8 واقعات پر حکومت ،میڈیا اور عوام کی توجہ نہیں ہوئی، اس لئے پولیس نے بھی انہیں کوئی اہمیت نہ دی۔ مجرم اب قصور میں نہیں ہو گا کیونکہ جس حد تک یہ معاملہ چلا گیا ہے اس کو بخوبی پتہ ہے کہ اگر وہ پکڑا گیا تو اس کیساتھ کیا ہو گا۔ پولیس والے جتنی محنت آج کر رہے ہیں، وہ پہلے واقعہ پر کر لیتے تو یہ واقعات نہ ہوتے۔ آج آئی جی روز قصور جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی اور 6 ایس پیز کی ٹیم بن گئی ہے۔ اب بھی یہ جتنی محنت زینب کے کیس میں کر رہے ہیں، اتنی پہلے کیسز میں کریں تو وہاں سے ان کو سراغ مل جائے گا جن کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں۔ ان کے والدین، اہل محلہ، جو لوگ ان کے گھر آتے جاتے تھے، اس سے ان کو کوئی نہ کوئی سراغ ضرور ملے گا جس کا تعلق زینب کے کیس سے ہوگا۔

میڈیا پر کارروائی بارے خبروں اور تبصروں کو کم اور کنٹرول کیا جائے کیونکہ اس طرح مجرم بھاگ جائیں گے۔ کمیونٹی پولیسنگ آج کل نہیں ہو رہی۔ ڈی آئی جیز اور ایس پیز لوگوں سے نہیں ملتے۔ ہم تو تھانوں میں جاتے تھے، کھلی کچہری لگاتے تھے، لوگوں سے ملتے اوران کی باتیں سنتے تھے، اس لئے ہمیں لوگوں کی باتیں معلوم ہوتی تھیں لیکن موجودہ افسر اب لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے سیاستدانوں کے کہنے پر اتنے غلط کام کئے ہیں کہ ان میں عوام کا سامنا کرنے کی جرات ہی نہیں رہی۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ انصاف کے معاملے میں سیاست مت کریں کیونکہ سیاستدان کہتے ہیں کہ انصاف لینا ہے تو ہمیں ووٹ دو۔ اس کا کام ہو گا جو ایم پی اے کو تھانے میں لے کر جائے گا۔ حالات میں بہتری لانے کیلئے پولیس آرڈر 2002 کو پوری طرح لاگو کر کے تفتیشی شعبے کو الگ کیا جائے، تفتیش کے نام پر ہزاروں کی تعداد میں بھرتی ہونیوالے افراد کو تفتیش کے کام پر لگائیں، ان کو جدید خطوط پر تربیت دیں تا کہ وہ مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچا کر جرم کرنیوالوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*