پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا متنازع مسودہ تیار کرنے پر2 افسر او ایس ڈی، ایک معطل

سیکریٹری اطلاعات سردار احمد نواز سکھیرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں وزارت اطلاعات کے تین افسروں کیخلاف کارروائی کے پس منظر میں بتایا گیا ہے کہ میڈیا میں خبروں کی اشاعت پر سیکریٹری اطلاعات نے معاملے کا جائزہ لیا تو پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین نے بتایا کہ آرڈنینس آج پریس کونسل اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے جس پر اسے ایجنڈے سے نکالنے کا کہا گیا۔
پریس کونسل کے چیئرمین کے مطابق وزیر مملکت اطلاعات کی 3 مارچ 2017 کو اجلاس میں دی گئی ہدایات کے مطابق مسودہ تیار کیا گیا تاہم وزیر مملکت اطلاعات نے ایسی ہدایات سے لاتعلقی کا اظہار کیا، ڈی جی انٹرنل پبلسٹی ونگ ناصر جمال نے بھی تسلیم کیا کہ وزیرمملکت نے ایسی ہدایات نہیں دیں بلکہ میڈیا کو سہولت پہنچانے کیلیے صرف پریس رجسٹرار اور اے بی سی کو ضم کرکے پریس کونسل کے تحت کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم متنازع آرڈنینس کی تیاری سے یہ غلط تاثر دیا گیا کہ وزارت پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹری شکنجے میں کسنا چاہتی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ذمے دار افسران کیخلاف مزید کارروائی فیکٹ فائنڈنگ افسر کی رپورٹ کے بعد کی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق ناصر جمال نے ازخود متنازعہ مسودہ تیار کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ میرے نام سے منسوب پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی خبر کو مسترد کرتی ہوں، پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے میرے نام سے منسوب جعلی خط جاری ہوئے، اس قسم کے کسی بھی خط سے مجھے غلط منسوب کیا گیا ہے، وزرات کے اندر وزیر کے دفتر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی، معاملے کی تحقیقات کیلیے تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، دو افسران کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے اور تیسرے کو معطل کرکے تین یوم میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات جاری کردی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے گی۔
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزرات اطلاعات کے کہنے پر کوئی بھی قانون نہیں بنایا جارہا، کسی بھی قانون سازی کیلیے وزارت قانون سے اجازت لینا پڑتی ہے، جب میں نے وزارت سنبھالی تو صحافیوں کی سہولت کیلیے آڈٹ بیورو آف سرکیولیشن (اے بی سی) اور پریس رجسٹرارکے دفترکو پریس کونسل آف پاکستان میں ضم کرنے کی بات کی تھی تاکہ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے صحافیوں کو سہولیات دی جاسکیں اور ان کو تین تین دفتروں کے چکر نہ لگانے پڑیں، میڈیا اور صحافیوں کو سہولیات فراہم کرنا میری ذمے داری ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت جس نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں معلومات تک رسائی کا بل2017 پاس کروایا ہے وہ کیسے چاہے گی کہ معلومات کو عوام سے اور میڈیا سے خفیہ رکھا جائے۔ جو حکومت یہ چاہے گی کہ میڈیا اور پاکستان کی عوام کو وہ معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہو اور گورننس اور شفافیت بہتر ہو، وہ کیسے چاہے گی کہ وہ اس کو مزید ریگولیٹ کرے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا بعض اخبارات میں پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے آرڈیننس سے متعلق بے بنیاد اور جھوٹی خبر شائع کی گئی، اس خبر کو پڑھ کر مجھے تشویش ہوئی تومیں نے وزرات کے حکام اور متعلقہ اخبار سے استفسارکیا اس کے بعد اپنی وزارت کا اہم اجلاس طلب کرکے ابتدائی انکوائری کے بعد ڈی جی انٹرننل پبلسٹی ونگ ناصر جمال اور طاہر حسن ڈائریکٹر انٹرنل پبلک سٹی ونگ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعد اللہ مہر کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نے کہا اس معاملے کی جامع تحقیقات کیلیے شفقت جلیل کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جو تین دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرائے گی، انکوائری رپورٹ کو میڈیا اور عوام کے سامنے لایا جائیگا اور کمیٹی تمام امور کا جائزہ لے گی، رپورٹ آنے کے بعد جو بھی مرتکب پایا جائیگا اس کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خبرکی بنیاد بننے والا خط نہ تو کسی فائل پر پٹ اپ کیاگیا نہ ہی اس کی وزیر کے دفتر یا سیکریٹری سے کوئی منظوری وغیرہ لی گئی۔ سعد اللہ نے اس بارے انکوائری شروع ہونے کے بعد اپنا فون بند کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ میڈیا میں ایسی خبر چلائی گئی ہے کہ وزیر اطلاعات کے حکم پر پرنٹ میڈیاکو ریگولیٹ کرنے کیلیے ایک ایسا قانون بنایا جارہا ہے جو پریس کونسل آف پاکستان کے آرڈیننس کوریپلیس کریگا اور وہ پیمرا کی نوعیت کاہوگا، یہ خبر پڑھ کر مجھے بہت تشویش ہوئی ہے کہ یہ کس قسم کی خبر ہے جس کی وزارت یا وزیر اطلاعات کو علم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون سازی کرنے یا قانون میں ترمیم کرنے یا کوئی نیا قانون بنانے کیلئے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے جس کیلیے وزارت کو پہلے وزارت قانون سے اجازت لینی پڑتی ہے اور اگر کوئی ترمیم کرنی بھی ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے کو پہلے اپنی وزارت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ مریم اورنگزیب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کہ کل سے پہلے مجھے نہ اس قانون، نہ ایسے کسی ڈرافٹ اور نہ ہی کوئی ایسے احکامات جو میں نے اپنے دفتر سے جاری کیے ہوں کی خبر تھی اور جب مجھے یہ فون آئے کہ یہ کون سی خبر ہے جس کی پریس کونسل آف پاکستان بات کررہا ہے تو میں نے وزارت اطلاعات، سیکریٹری اطلاعات، ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ ناصر جمال سے رابطہ کیا اور ان سے استفسار کیا تو انھوں نے بھی یہی بتایا کہ وزارت کو ایسے کسی قانون یا ڈرافٹ کی کوئی خبر نہیں ہے اور نہ ہی کسی وزارت کے حکم نامے پر ایسے قانون پر کام ہو رہا ہے، اس کے بعد جب ڈان اخبار سے بات ہوئی تو میں نے جب ان سے پوچھا کہ آپ نے کس بنیاد پر یہ خبر لگائی ہے تو پتہ چلا کہ وزارت کے تین خطوط ہیں جو پی سی پی کو لکھے گئے ہیں جن میں لکھا گیا ہے کہ وزیر اطلاعات کی ہدایت پر ایسا قانون بنایا جائے اور وہ تینوں خطوط میں نے حاصل کیے وہ تین خطوط سعد اللہ مہر اسسٹنٹ ڈائریکٹر انٹرنل پبلسٹی ونگ کے دستخط سے جاری ہوئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ فوری طور پر سیکریٹری اطلاعات اور متعلقہ حکام سے بات کرکے ایک اہم ہنگامی اجلاس بلا کر معاملہ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کی گئی تحقیقات سے پتہ چلا کہ جو خط سعد اللہ نے لکھے ہیں نہ اس کی کوئی فائل موجود ہے اور نہ کوئی نوٹنگ موجود ہے نہ کسی قسم کے میٹنگ کے منٹس موجود ہیں جس میں یہ ہو کہ وزیر نے اس قسم کی کوئی ہدایت جاری کی جس کے تحت یہ کام کیا گیا اس کا کوئی بھی سرا وزارت کے اندر موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہا وزرات اطلاعات صحافیوں کی سلامتی اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بل پر کام کر رہی ہے جو ا سٹیک ہولڈرز کی جانب سے ان پٹ نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ انھوں نے کہا حکومت اور میڈیا کے درمیان اختلاف پیدا کرنیوالے ذمہ داران کی نشاندہی کیلیے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے، محکمانہ تحقیقات پوری ہونے تک غیرذمے دارانہ بات نہ کی جائے۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی جانب سے پرنٹ میڈیا کیلیے مبینہ پرنٹ میڈیا کنٹرول اتھارٹی کی تشکیل سے متعلق مجوزہ قانون سازی کی تردید اور مبینہ مسودے کی تیاری کے ذمے داران کا تعین کرنے کیلیے انکوائری کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد اور سیکریٹری جنرل اعجازالحق کے مشترکہ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پرنٹ میڈیا مکمل طور پرصحافتی ضابطہ اخلاق پرکاربندہے جوآزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے عین مطابق ہے۔ انھوں نے اے پی این ایس، پی ایف یو جے اور پریس کلب کی جانب سے احتجاج اور مذمتی بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے باہمی اتحاد کو خراج تحسین پیش کیا۔ سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد نے مزید کہاکہ پرنٹ میڈیا کیخلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیںگے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈان لیکس کی طرح پرنٹ میڈیا کیخلاف مجوزہ قانون سازی کی من گھڑت خبروں اور وزارت اطلاعات میں موجود شرپسند افسران کیخلاف انکوائری کرائی جائے اور ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے، جو آزادی صحافت کے دشمن نظر آنے کیساتھ ساتھ حکومت کی بدنامی کاباعث بھی ہیں۔ علاوہ ازیں پریس کونسل آف پاکستان میں اجلاس ہوا جس کے تمام شرکاء نے اس متنازعہ مسودے کو متفقہ طور پر مسترد کردیا۔ اجلاس کے بعد اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی ایف یو جے کے نمائندوں نے نیشنل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اس متنازع آرڈیننس کو پریس کونسل بھیجنے والے افسروں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا اور رپورٹ طلب کر لی، تینوں تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ آزادی صحافت پر کسی قسم کی قدغن کو برداشت نہیں کیا جائیگا اور اگر کوئی ایسی سازش کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائیگی۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.