پولیس کا زینب کی لاش دینے پر بطور ‘انعام’ رقم کا مطالبہ

پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا، جس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔ واقعے کے بعد شہر بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے اور لوگوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا، ان پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔ زینب کے چچا نے نے نجی چینل سے گفتگو میں بتایا کہ  ساتھ ہی خالہ کا گھر ہے زینب بچوں کے ساتھ پڑھنے کے لیے گئی تھی۔ بھرا بازار ہے سب اپنے ہی ہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کہاں گئی۔ جمعرات کو بچی غائب ہوئی اور جمعے کو ہم نے 12 بجے صبح ثبوت دیے لیکن پانچ دن بچی زندہ رہی لیکن ان سے کچھ نہیں ہو سکا۔ جگہ جگہ کارروائی کی اور گاڑیاں بھگاتے ہیں لیکن پلے کچھ نہیں ہے۔ ننھی پری زینب کے چچا نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج ہم نے خود پولیس کو دیں تاکہ پتہ چلایا جاسکے کہ قاتل کون ہے، لیکن شاید پولیس کے پاس ماڈرن ٹیکنالوجی کا فقدان ہے جو ابتک اس شخص کی پہچان نہیں کر سکے۔ اینکر پرسن کے سوال پر کہ کیا جب بچی کی لاش ملی تو کسی نے آپ سے پیسے مانگے ؟ جس پر زینب کے چچا نے بتایا کہ ڈی پی او صاحب نے کہا تھا کہ جس اہلکار نے بچی کی لاش ڈھونڈی ہے اسے لواحقین پیسے دیں گے، انہوں پولیس کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے لاش ڈھونڈنے پر بطور انعام 10ہزار روپے مانگے گئے۔ زینب کے چچا کا مزید کہنا تھا کہ ہم 5 گھنٹے لاش سٹرک پر رکھ کر بیٹھے، لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک رینگی، ہمارے ساتھ بھونڈا مذاق کیا گیا۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.