چابہار سے گھبرانے کی ضرورت نہیں!

بطور وفا قی وزیر شپنگ ایران کی بندر گاہ چا بہار کی افتتاحی تقریب میں شر کت کے لیے بذریعہ سڑک گیا۔ وہاں ایرانی حکمرانوں سے ملاقاتوں کے بعد خو شگوار تاثر لیکر لوٹا۔ سب سے پہلے یہ واضح کردوں کہ ایران کی چا بہار پورٹ گوادر بندرگاہ کی مدد کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ ہمارے مدمقابل ہو سکتی ہے لیکن ہم ایک دوسرے کے سہولت کار بن سکتے ہیں، اس کی وجہ ہماری بندرگاہ کامحل وقوع ہے جو اسے دوسری بندرگاہوں سے ممتاز بناتا ہے کیونکہ چا بہار پہنچنے پر جو لاگت آئے گی، اس سے 30 فیصد کم پر گوادر بندرگاہ پر پہنچا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر باقی دنیا کو اگر گوادر پہنچنے کیلئے دو گھنٹے لگیں گے تو چا بہار پہنچنے کیلئے انہیں 20 گھنٹے درکار ہونگے۔ لہذا ہمیں چا بہار سے گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ ہم نے ایران کو یہ تجویز بھی دی، جس کا اظہار پھر ایرانی صدر اور وزیر ٹرانسپورٹ نے بھی کیا کہ گوادر اور چابہار میں ریلوے لائن بھی ہونی چاہیے، جس سے زیادہ مدد ایران کو ہی ملے گی کیونکہ ہماری بندرگاہ کا سائز چابہار سے بہت بڑا ہے۔ اگر ہم ویسے ہی رہے جیسے چلتے رہے ہیں تو پھر کوئی بھی آپ سے آگے نکل جائے گا لیکن اگر ہم اس بار اتنا کام کر نے میں کامیاب ہو گئے جس کی ضرورت ہے تو پھراس خطے میں جو کردار گوادر کا ہو گا وہ جبل علی بندرگاہ (دبئی) کا بھی نہیں ہو گا۔ گوادر بندرگاہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کو جتنی ترقی دینا چاہیں وہ دے سکتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ گنجائش ہے جو خطے کی دیگر بندرگاہوں میں نہیں۔ آپ کے پاس وافر جگہ موجود ہے جو دوسروں کے پاس نہیں۔ گوادر سے کراچی تک 7سو کلومیٹر تک ایک وسیع علاقہ ہے جس پر اسے بڑھایا جا سکتا ہے جو اس خطے میں کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ بھارت کی چا بہار کے حوالے سے یہ سوچ ہے کہ گوادر کو آخر کار چین اپنے سٹریٹجک مقاصد کیلئے استعمال کرے گا اور انہیں بھی اپنے سٹریٹجک مقاصد کیلئے اس علاقے میں موجود ہونا چاہئے لیکن میرا نہیں خیال کہ پاکستان یا ایران اپنی جگہ کسی کو اپنے سٹریٹجک جھگڑے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دینگے۔ یہ کاروباری مقاصد کیلئے تعاون ہے، اس کے علاوہ دیگر مقاصد کیلئے کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائیگی۔ ہماری چین کیساتھ دوستی ہے، کاروباری شراکت داری ہے لیکن ہم کسی کے جھگڑے میں پھنسنے کیلئے تیار نہیں۔ گوادر بندر گاہ کا معاہدہ اس حکومت نے نہیں کیا، یہ وہی معاہدہ ہے جو شوکت عزیز کے دور میں سنگاپور اتھارٹی کیساتھ ہوا تھا۔ یہ بندرگاہ آپ نے 40 سال کیلئے انہیں دی ہے جو بندرگاہوں کی زندگی میں کوئی بڑی بات نہیں ہوتی جہاں جو بھی انڈسٹری لگے اور سرمایہ کاری ہوگی، اس کا کنٹرول 40 سال کے بعد خود بخود آپ کی وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کے پاس آجائے گا۔ دنیا میں اسی اصول کے تحت کام ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایف ڈبلیو او جو ہمارا اپنا ادارہ ہے اس نے کراچی حیدرآباد ہائی وے اسی طرز پر بنائی ہے تو وہ 35 سال تک ایک روپیہ بھی ہائی وے کی آمدن کا نہیں دے گا ۔لوگ اس کو الجھا رہے ہیں حالانکہ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔اس میں مایوسی کی بات نہیں ۔میں اس حوالے سے بالکل مطمئن ہوں اور آنیوالے دن ہمارے لئے بہتری کی نوید لائیں گے ۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ بندرگاہ بن رہی ہے کیونکہ چین کو بھی اس کی ضرورت ہے ۔قوم پرست ،ناراض بلوچ یا باغی جو بھی کہہ لیں ،ان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ بلوچ قوم کا مفاد اس وفاق سے وابستہ ہے ،اس کے بغیر ہم اپنی بقا کو برقرارنہیں رکھ سکتے ۔اسلئے اس وفاق کے اندر رہتے ہوئے اپنے حقوق لیں ،مذاکرات کریں۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.