چودہ میگا کرپشن مقدمات میں انکوائری ختم، باقی تاخیرکا شکار

نیب نے جو کیسز بند کیے ہیں وہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سابق وزیراعلیٰ کے پی کے آفتاب شیرپاؤ، سابق سفیر حسین حقانی، پیپلز پارٹی کی سابق وزیر اور اب پی ٹی آئی کی رہنما فردوس عاشق اعوان اور مہران گیٹ کیس کے یونس حبیب کے تھے۔ نیب کی اعلانیہ پالیسی کے مطابق، ہر انکوائری / تحقیقات کو ریفرنس میں تبدیل کیا جانا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ ان ہائی پروفائل کیسوں میں سے زیادہ تر میں ملک کی سر کردہ شخصیات کیخلاف تحقیقات کی جا رہی تھیں۔ ادارے کے اندر جاری اصلاحاتی عمل کے ذریعے، نیب نے 2015ء کے اوائل میں ریجنل چیف اور ڈائریکٹر جنرلز کے صوابدیدی اختیارات کو محدود کردیا تھا تاکہ ماضی کی طرح بلیک میلنگ، مخصوص لوگوں کو نشانہ بنانے یا پھر سیاسی انتقام کے سلسلے کو روکا جاسکے اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ کسی بھی سیاست دان، بیوروکریٹ، شخص وغیرہ کیخلاف درج کی جانے والی شکایت 10 ماہ کے اندر ریفرنس میں تبدیل کی جائے گی یا پھر اس کیس کو بند کر دیا جائے گا۔ اسی پالیسی کے تحت، ریجنل چیف اور ساتھ ہی نیب کے ہیڈکوارٹرز میں متعلقہ حکام کو دو ماہ کا عرصہ دیا گیا کہ وہ درج شدہ شکایت کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیں۔ کہا گیا تھا کہ اگر کسی شکایت کی تصدیق ہوئی اور اس میں بظاہر کوئی شواہد نظر آئے تو اسے انکوائری میں تبدیل کیا جائے گا بصورت دیگر اس شکایت کو کچرے کے ڈبے میں ڈال دیا جائے گا۔ انکوائری کی تکمیل کیلئے، نیب حکام کو چار ماہ دیئے گئے جس میں انہیں ٹھوس شواہد تلاش کرنا ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر مطلوبہ شواہد چار ماہ کی انکوائری کے دوران مل گئے تو اس کیس کو ’’انویسٹی گیشن‘‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اگر ٹھوس شواہد نہ ملے تو انکوائری ختم کر دی جائے گی۔ لیکن، اہم ترین مقدمات میں سے زیادہ تر کے حوالے سے طے شدہ عرصہ (ڈیڈلائن) پر عمل نہیں کیا گیا۔ نیب کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق، جان بوجھ کر دیوالیہ قرار دیئے جانے کے حوالے سے حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے متعلق یونس حبیب کیخلاف انکوائری بینک کی جانب سے تین ارب روپے کی ریکوری کے بعد بند کر دی گئی۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کیخلاف ایک ملین امریکی ڈالرز کی کرپشن کیخلاف انویسٹی گیشن 2015 میں بند کی گئی۔ اختیارات کے ناجائز ا ستعمال اور خرد برد کے کیس میں فردوش عاشق اعوان کیخلاف انکوائری رواں سال جنوری میں بند کی گئی۔ اسحاق ڈار کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور وسائل سے زیادہ اثاثے بنانے کی انویسٹی گیشن جولائی 2016ء میں بند کی گئی۔ لاہور، کراچی اسلام آباد میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام کیلئے تین نجی کمپنیوں کو غیر قانونی طریقے سے لائسنس دینے کیلئے حسین حقانی کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کی انوسٹی گیشن مئی 2016ء میں بند کی گئی۔ 600 ملین روپے خرچ کرکے فراڈ کے ذریعے زمین کی خریداری کرنے کے الزام میں او جی ڈی سی ایمپلائز کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ میسرز فیضان (پرائیوٹ) لمیٹڈ اور دیگر کیخلاف انکوائری اکتوبر 2015ء میں بند کی گئی۔ تین ہزار کنال زمین کی خریداری اور ہاؤسنگ اسکیم کی ڈویلپمنٹ میں خرد برد کے کیس میں وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس اسلام آباد اور دیگر کیخلاف انکوائری رقم کی واپسی (سیٹلمنٹ) کے بعد بند کر دی گئی۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فائونڈیشن (ایف جی ای ایچ ایف) نے سائٹ پر ترقیاتی کام شروع کرنے کیلئے گرین ٹری کے نام پر بطور ضمانت 686؍ ملین روپے کے پے آرڈرز جاری کیے۔ ڈپلومیٹک انکلیو میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد اور دیگر کیخلاف انکوائری اگست 2016ء میں بند کی گئی۔ جاوید ندیم اکرم، پالکستان ایمپلائز کو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) کی انتظامیہ اور دیگر کیخلاف سوسائٹی کے فنڈز میں خرد برد کرنے کی انکوائری جنوری 2016ء میں بند کی گئی۔ منظور شدہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی اور زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے کیس میں نیشنل اسمبلی سیکریٹریٹ کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی (این اے ایس ای سی ایچ ایس) کی انتظامیہ اور دیگر کیخلاف انکوائری جنوری 2017ء میں بند کی گئی۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی آڑ میں عوام کو دھوکا دینے کے کیس میں سویلین ایمپلائز کو آپریٹیو ہائوسنگ اسکیم (سون گارڈ فیز ٹوُ) کی انتظامیہ اور دیگر کیخلاف انکوائری مکمل کرکے یہ کیس رجسٹرار کو آپریٹیوز کو مزید کارروائی کیلئے اپریل 2016ء میں بھیج دیا گی۔ اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات پر لاہور میں الفلاح کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ اور دیگر کیخلاف انکوائری بند کر دی گئی ہے۔ ہزارہ یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر سُہیل شہزاد کیخلاف غیر قانونی بھرتیاں کرنے کیلئے اختیارات کے ناجائز استعمال کی انکوائری مارچ 2016ء میں بند کر دی گئی۔ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور دیگر ملازمین کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور بے ضابطگی کرتے ہوئے ایلیویٹر ایوارڈ کرنے اور پی ایس ڈی میٹرو میٹرو بس پروجیکٹ راولپنڈی اور اسلام آباد کی انکوائری دسمبر 2016ء میں بند کی گئی۔
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.