چینی کمپنیوں کو ٹھیکا دینے کے باوجود کراچی کا کچرا جوں کا توں

رواں سال کے اغاز میں سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کو فعال کیا گیا تو چینی کمپنی سے 2 ارب روپے سے زائد کا معاہدہ کیا جس کے تحت 23 ڈالر فی ٹن کچرا اٹھانے کا معاہدہ ہوا۔

معاہدے کے مطابق ضلع جنوبی اور شرقی سے کچرا اٹھانے سے ٹھکانے لگانے تک سب کام اسی کمپنی کو کرنا تھا جب کہ رواں ماہ ضلع ملیر اور غربی کا معاہدہ بھی کرلیا گیا اور کم و بیش اسی قیمت پر نئی چینی کمپنی سے معاہدہ ہوا۔

سال 2017 کے ساڑھے دس ماہ گزر چکے ہیں لیکن شہر میں کچرے کی صورتحال جیسے تھی آج بھی ویسی ہی ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں 12 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جو اس تناسب سے اٹھایا نہیں جاتا جس سے صورتحال بد سے بدتر ہوئی ہے۔

ضلع جنوبی اور شرقی میں کام کرنے والی چینی کمپنی کو اب تک 20 کروڑ روپے سے زائد ادائیگیاں کی جاچکی ہیں لیکن کروڑوں روپے لگنے کے باوجود بھی شہر میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔

سندھ سولڈ ویسٹ حکام کا کہنا ہے شہر میں موجود پہلے سے جمع کچرے کو بھی صاف کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*