ڈھاکہ میں یونٹ کو چھوڑ کر فرار ہو جانے والا وزیر خزانہ کا والد فوج میں نا معقول جنرل کے طور پر مشہور تھا۔۔۔ وزیر اعظم کی ہر تقریر کے بعد ڈالر دس روپے اوپر ہو جاتا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر غیر ملکی ایجنڈے پر گامزن۔ جانئے تفصیلات بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ : وزیر خزانہ کا ایک بھائی نواز شریف کا بیڑا غرق کر چُکا ہے۔ اور دوسرا عمران خان کا بیڑا غرق کر رہا ہے۔

اینگرو کو جعلی طریقے سے اوپر لے کر گیا۔ جبکہ ایچ ایس بی سی کا بیڑا غرق کیا۔

خود کو اوپننگ بلے باز کہنے والا کہتا ہے سوئنگ بال ہو رہی ہے اوپر بادل ہے اور پِچ گراسی ہے۔
نہ ہی آوٹ ہو رہا ہے اور نہ ہی رنز بنا رہا ہے اور ٹارگٹ ۔
وزیر خزانہ چور ایکسپورٹرز کو تحفظ دے رہے ہیں ۔
نالائق ترین وزیر خزانہ ثابت ہو گیا۔
عمران خان کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، 25 روپے ڈالر مہنگا کر چُکا ہے اور عوام اب قبروں پر بھی ٹیکس دے گی۔

:اور وزیر خزانہ نے 100 روز پورے ہونے پر کیا کہا جانئے۔

حکومت کی 100 روزہ کارکردگی پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں اسد عمر نے کہا کہ کپتان نے ٹاس جیت کر مجھے بیٹنگ کے لیے بھیج دیا ہے، گراؤنڈ میں بارش اور گیند سوئنگ بھی ہو رہا ہے، سب لوگ کہتے ہیں میری وزارت مشکل ہے کیونکہ ہم نے مشکل وکٹ پر بیٹنگ کا آپشن چنا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایک سیکنڈ بھی نہیں سوچا کہ اہداف حاصل نہیں کر سکتے اور تحریک انصاف کے کا منشور پورا نہیں ہو سکتا، محنت کرنے کی نیت ہو تو کامیابی اللہ دیتا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت آنے سے پہلے بیرونی قرضوں میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے تھے، بیرونی خسارہ دو ارب ہو رہا تھا جو اب آدھا ہو گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سٹیل ملز کے ملازمین کی بیواؤں کا ایک ارب روپیہ سابق حکومت نہیں دے سکی، آج ہم نے بیواؤں کے ایک ارب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے دورے کے بعد مالی بحران ختم ہوچکا ہے، پہلے بھی کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پیچھے نہیں چھپیں گے، آئی ایم ایف معاہدے میں اگر سخت فیصلے ہوں گے تو قوم کو بتائیں گے۔

سیاسی مخالفین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا انگریزی بولنے والوں کا دماغ بڑا چلتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ پرائم منسٹر ہاؤس کی بھینسیں بیچ دی گئیں، حقیقت ہے کہ ان جیسے اقدامات سے عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کے کروڑوں روپے بچائے، اسی سوچ سے پاکستان بچے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ عوام مشکل میں ہے، ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں، تاہم حکومت نے جن کی آمدنی زیادہ ان پر ٹیکس بڑھایا اور بجلی کے نرخ بڑھانے کے فیصلے میں 70 فیصد لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالا گیا، ان چیزوں پر ٹیکس بڑھایا جو امیر لوگ استعمال کرتے ہیں