ڈیجیٹل کرنسی کی بڑھتی مقبولیت نے دنیا کو حیران کر دیا

ڈیجیٹل کرنسی کی بڑھتی مقبولیت نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس فہرست میں ضابطوں سے آزاد بٹ کوائن ہے۔ کرنسی اپنی ہیت تبدیل کرتے کرتے کاغذ کی تو شکل اختیار کر گئی مگر ایک دہائی پہلے کسی کو یقین نہیں تھا کہ دنیا میں ایک ایسی کرنسی بھی ہو گی جس کا کوئی وجود نہیں ہو گا لیکن پھر بھی دنیا بھر میں نہ صرف اس کے ذریعے ادائیگیاں اور وصولیاں ہوں کی بلکہ یہ منافع بخش سرمایہ کاری بھی بن جائے گی۔ اس بٹ کوائن کی جسے سال دو ہزار نو میں متعارف کرایا گیا اس وقت اس کی قیمت صفر اعشاریہ صفر تین ڈالر تھی مگر آج ایک بٹ کوائن تقریبا ساڑے آٹھ ہزار ڈالر یعنی پاکستانی روپے میں آٹھ لاکھ بہتر ہزار کا ہو چکا ہے اور اس ورچوئل کرنسی کو ساری دنیا میں استعمال کیا جا رہا ہے مگر اسے کسی ملک کا مرکزی بینک کنٹرول نہیں کرتا۔ بٹ کوئن کرپٹو گرافی کرنسی ہونے کی وجہ سے اس کے مالکان اور صارفین پتہ لگانا مشکل ہے اسی وجہ سے اس کا غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ایک خطرے کی صورت میں موجود ہے۔ ویسے بھی یہ ڈیجٹل کرنسی سرحدوں سے آزاد ہے۔ بٹ کوائن ایک ایسا ڈیجیٹل اثاثہ ہے جسے دو ہزار نو میں تیار کیا گیا تھا اور ساتوشی ناکاموٹو کو اس کا خالق قرار دیا جاتا ہے۔ بٹ کوائن کے مالیاتی نظام کو چلانے کے لیے پی ٹو پی لیئرڈ کمیونیکیشنز نیٹ ورک میں کوئی ایک ڈیوائس جو ایک ہی پروٹوکول لیول پر آپریٹ کرتی ہے ڈیجیٹل لین دین کا باقاعدہ ڈیجیٹل لیجر مرتب کیا جاتا ہے جسے بلاک چین کا نام دیا گیا ہے۔ بٹ کوائن نے مڈل مین کے کردار کو ختم کر دیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک کروڑ بیس لاکھ بٹ کوائن موجود ہیں لیکن اس کوائن کی حد بھی دو کروڑ دس لاکھ مقرر کی جا چکی ہے۔ بٹ کوائن کے ذریعے دنیا بھر میں کوئی بھی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ بٹ کوائنز کو کاغذی کرنسی میں تبدیل کرانے پر جو فیس لی جاتی ہے وہ دیگر ذریعوں کے مقابلے میں کم ہے اسی لیے بٹ کوائن کے ذریعے بڑے پیمانے پر انفرادی اور کاروباری لین دین کیا جارہا ہے۔ کئی ممالک نے بٹ کوائن کے کاروبار کو غیر قانونی قرار دیا تو کئی ممالک میں اس کرنسی نے کسی چھتری تلے کام شروع کر دیا ہے۔ حال ہی میں کینیڈا میں بٹ کوائن اے ٹی ایم بھی لگا دیا گیا ہے جہاں سے صارف کیش نکال سکتا ہے۔
This entry was posted in Busniess, اہم خبریں. Bookmark the permalink.