ڈی این اے، قدرت کا تخلیق کردہ شناختی کارڈ

 

 

ڈی این اے میں انسان کے بارے میں بنیادی معلومات ہوتی ہیں مثلاً اس کی جنس، بالوں کا رنگ، آنکھوں کا رنگ اور جسمانی ساخت وغیرہ۔ اس کے علاوہ اس انسان کو کون کون سی بیماریاں لاحق ہونے کا امکان ہے، یہ بھی اس کے ڈی این اے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جس شخص کا بھی ڈی این اے کا ٹیسٹ مقصود ہو اس کا بال،خون، ہڈی اور گوشت یا ان میں سے کسی ایک چیز کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے انسانی خلیے میں سے ڈی این اے الگ کیا جاتا ہے اور پھر پولیمیریز چین ری ایکشن نامی طریقے کی مدد سے اس ڈی این اے کی کثیر نقول بنا لی جاتی ہیں۔

ان نقول کی مدد سے ڈی این اے کی جانچ بہتر طریقے سے ہو سکتی ہے۔ ڈی این اے کو جانچنے کے بعد ڈی این اے فنگر پرنٹ بنایا جاتا ہے۔ حادثات کی صورت میں جب لاش کی شناخت بالکل نا ممکن ہو تب ڈی این کے ذریعے ہی شناخت عمل میں لائی جاتی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے جانچا جاتا ہے کہ اس لاش کا ڈی این اے کس خاندان سے مل رہا ہے۔ ڈی این اے میں موجود جینیٹک کوڈ کو تقابلی جانچ سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دو مختلف اشخاص میں کوئی خونی رشتہ ہے کہ نہیں۔ اسی لیے جھلسی ہوئی یا ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے کر دعویٰ دار لواحقین کے نمونوں سے ملائے جاتے ہیں۔ اگر جینیٹک کوڈ ایک جیسے ہوں تو خونی رشتہ ثابت ہو جاتا ہے اور لاش لواحقین کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ اگر درست طریقے سے انجام دیا جائے تو اس کے بعد ابہام کی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے حتمی سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی نئی ہے اور اس کے ماہرین کی کمی ہے۔ اس کے باوجود اہم مقدمات میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لے کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے چند عام مقاصد درج ذیل ہیں۔ اگر یہ جاننا ہو کہ کسی انسان کے حقیقی والدین کون ہیں تو اس انسان کا ولدیت کا دعویٰ کرنے والوں کے ساتھ ڈی این اے میں میچ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ اگر دونوں کے ڈی این اے میں مماثلت ہو تو ولدیت کا دعویٰ درست قرار پاتا ہے۔

ڈی این اے کی مدد سے مجرم کی شناخت بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ اگر جائے وقوع سے مجرم کا بائیولوجیکل نمونہ ملے تو اس کا ڈی این اے حاصل کر کے مکمل رپورٹ مرتب کر لی جاتی ہے۔ اس ڈی این اے کو اس خاص کیس میں نامزد ملزمان کے ڈی این اے سے میچ کر کے مجرم کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

کچھ ہی عرصہ قبل معصوم بچی زینت کے ریپ اور قتل کے مجرم کی اسی طرح تصدیق کی گئی۔ اگر کسی خاندان میں کوئی مخصوص بیماری ہو تو ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ بچے میں بھی یہ بیماری ہوگی یا نہیں۔ اگر کوئی اپنے آبائو اجداد کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہے تو وہ بھی ڈی این ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک منصوبے کے تحت انسانی نسلوں کی ماضی میں کی گئی ہجرت کے بارے میں جاننے کے لیے اسی طریقے کو استعمال کیا گیا۔ اب برصغیر میں آریاؤں کی آمد کی گتھی بھی ڈی این اے کی مدد سے سلجھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*