کائرہ کآ سفر بھمبر کی فرنس مل سے پیپلزپارٹی پنجاب کی صدارت تک بھمبر مے انکے پارٹنرشپ ملروں کے ساتھ اور آب تفصیلات کے لئے یہاں کلک کیجئے اور

3

میں اس قمر الزماں کائرہ کو جانتا ہوں
جو نوے کی دہائی میں
سکائی ویز نامی اپنی خاندانی ٹرانسپورٹ کمپنی کے معاملات دیکھتا
اور
کبھی کبھار
اسلام آباد کے ایک عام سے گیسٹ ہاؤس میں
قیام کے موقع پر
دوستوں کی محفل میں
ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور اخلاقی و انتظامی ناہموار یوں پر
اتنا کڑھتا اتنا کڑھتا
کہ ہم سے ازلی اوکھے بندوں کو بھی اسے کہنا پڑتا
کائرہ صاحب “ ساہ لے لاو”
مطلب ذرا سانس لیں
۔
وقت کا پہیہ آگے بڑھا تو
بی اے کی ڈگری والا معاملہ سامنے آ کھڑا ہوا
حاجی اصغر کائرہ مرحوم بے نظیر بھٹو شہید کے انتہائی قابل اعتماد ساتھیوں میں سے تھے اور ان کی عوام دوست پالیسی کے باعث لالہ موسی سے قومی اسمبلی کی نشست کائرہ خاندان کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ دینا
پیپلز پارٹی افورڈ نہیں کر سکتی تھی
اور پھر زمانے نے دیکھا کہ
قمر الزماں کائرہ نے ہر ہر سطح پر نمائندگی کا حق یوں ادا کیا کہ
ان کے سیاسی مخالف بھی رشک کرنے لگے
آج ان کے صاحبزادے کی بے وقت موت پر سارا پاکستان
افسردہ ہے تو ایک وجہ جہاں اسامہ قمر کائرہ کی بن کھلے مرجھا جانے والی جوانی ہے
تو دوسری طرف
قمرالزماں کائرہ کااپنی سیاسی کاز سے مخلصانہ کمٹمنٹ کا اعتراف اور احترام بھی ہے
ایسے میں
قمرالزماں کائرہ اور بالخصوص مسز قمرالزماں کائرہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کے ساتھ
وائس آف امریکہ سے وابستہ پاکستان کے مستند صحافی اسد حسن کی تجویز
ہم سب کی فوری توجہ کی طالب ہے
۔
اگر آپ سب کو اسامہ قمر کائرہ کی بے وقت موت کا دلی دکھ ہے
اور یقینا” ہے
تو
مندرجہ ذیل تجویز کو اتنا شئیر کریں کہ
محترم قمر الزماں جب ذرا سنبھلیں تو
اسے عملی شکل دینے کے لئے
سالار قافلہ بن جائیں
۔
خوشی میں نہ سہی
غم میں تو ہم سیاسی تفریق کو پرے رکھ کر
ایک ہو سکتے ہیں
ایک قوم بن سکتے ہیں
اپنے لئے
اپنے بچوں کے لئے
۔
اسد حسن لکھتے ہیں

ہمارے مہربان دوست رانا محبوب اختر نے قمر زماں کائرہ کا دکھ یوں قلمبند کیا ہے۔
تمہاری یاد کی شدت میں بہنے والا اشک۔۔۔
زمیں میں بو دیا جائے تو آنکھ اگ آئے۔۔۔۔
اس سے بہتر اظہار ممکن نہیں۔ اس سے زیادہ کائرہ صاحب کے کرب کو محسوس کرنا نا ممکن ہے۔۔
۔
اب سوال یہ ہے کہ کائرہ صاحب کے دکھ کا ازالہ کیسے ہو؟
۔
مجھے لگتا ہے کہ ازالہ ممکن ہے۔۔۔
کائرہ صاحب ایک “اعتراف غفلت” کے ساتھ ایک قومی تحریک شروع کریں تو کئی گھر ہر سال لاشوں کے انبار اٹھانے سے بچ جائیں۔۔
تحریک اس ہجوم نما قوم کو سڑک پر ڈرائیو کرنے سے پیدل چلنے تک کے بین الاقوامی آداب سکھانے کی۔۔
اپنے جرم کے اعتراف کے ساتھ کہ ان کا سترہ سال کا بیٹا عالمی اصولوں کے مطابق ڈرائیونگ کا اہل ہی نہ تھا۔ اس اعتراف کے ساتھ کہ جانے والے کو گاڑی دینی ہی نہیں چاہیے تھی۔۔میرا اندازہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے صاحبزدے کے پاس ڈرائونگ لائسنس بھی نہیں ہو گا۔
۔
اب کائرہ صاحب اگر حادثات سے بچاؤ کے لیے قومی سطح پر تحریک چلائیں تو ان کو ضرور مرہم محسوس ہو گا کہ وہ ہزاروں لاکھوں آئندہ حادثات سے کسی اور کے لخت جگر کو اپنی جان کے ٹکڑے اسامہ قمر کے نام پر بچانے نکل کھڑے ہیں
۱ – پاکستان میں بکنے اور چلنے والی ہر گاڑی میں ائیر بیگز لازمی قرار دئیےجائیں
۲ – جی ٹی روڈ کے گرد موٹر وے کی طرز پر باڑ لگائی جائے، نام نہاد کاروباروں کو پیچھے دھکیلا جائے اور مقامی آمدورفت بالخصوص گدھا گاڑیوں، ریڑھیوں موٹر سائیکلوں کے لیے سروس روڈز بنائے جائیں۔
۳ – شہری اور کاروباری علاقوں میں سپیڈ کی حد پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ کیمرے نصب کیے جائیں،
۴ – والدین اپنے بچوں کو گاڑی دینے سے پہلے ان کی عمر،ڈرایئونگ کی ان کی اہلیت، ان کے روڈ سینس کو خود دیکھیں اور انہیں ٹریفک قوانین کی پابندی سکھائیں۔
۵ – ڈرائیونگ گیر سٹئرنگ اور ایکسیلیٹر کو سمجھ لینے کا نام نہیں، رویے کا نام ہے، یہ رویے درست انداز میں نئے ڈرائیوروں کے اندر انڈیلے جائیں۔۔
۶ – منہ اٹھائے جاہلوں کی طرح بڑی شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کو بھی جرمانے کیے جائیں۔۔جیسے امریکہ۔میں ہوتے ہیں۔ کئی ڈرائیورز ایسے ہی کسی گدھے کو بچانے کیے اپنی جان دے دیتے ہیں۔
۷ – حقیقی گدھوں، گائیوں، بھینسوں، بکروں اور دیگر جانوروں کی پہنچ بھی ان شاہراہوں پر نہ ہو جہاں ڈرائیور ایک مناسب رفتار سے چل رہے ہوتے ہیں۔
۸ – پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ اور زیبرا کراسنگ عام کی جایئں۔
۹ – موٹر سایئکل پر ڈرائیور اور سواری دونوں کے لیے ہیلمٹ لازمی ہو ، حال مگر یہ ہے کہ وزیر خارجہ بھی پچھلے روز موٹر سائیکل پر بنا ہیلمٹ نظر آئے ۔ وزیر ریلوے بھی ہیلمٹ نہیں
۱۰ – سب سے ضروری بات وہی گاڑی سڑک پر آئے جس کی ونڈ شیلڈ پر مجاز ورکشاپس سے فٹنس کے سٹکر لگے ہوں
۱۱ – اگر کسی با اثر کا بچہ ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی میں دھر لیا جائے تو جھوٹی انا کو تسکین دینے کے لئے چالان آفیسر کا تبادلہ کرانے کے بجائے اپنے بچے کو دو چار دن جیل میں رہنے دیا جائے۔۔ صدر بش کی بیٹی بھی اسی خلاف ورزی میں حوالات میں رہ چکی ہے۔

کائرہ صاحب اپنے صاحبزادے کے دلخراش وداع کو اللہ کی منشا کے ذمے لگا کر خاموش ہو جانے کی بجائے اس مقصد کو زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف اپنے درد کی دوا پائیں گے بلکہ اپنے بیٹے کی روح کی تسکین کا بھی سبب بنیں گے ۔

یہ تحریک سال دو سال نہیں عمر بھر کی جدوجہد کی متقاضی ہے
یہ روایتی سیاست سے بڑا مقصد ہے۔
آج کائرہ صاحب کا درد ہم سمجھ رہے ہیں
شاید ان کے منہ سے نکلی بات بھی ہم سب کو، اس ملک اس ریاست کے زمہ داروں کو سمجھ آ جائے۔۔
ورنہ روزانہ کئی جواں سال سڑک پر بھاگتے جنون کو اپنا خون پیش کرتے رہیں گے۔ آج کائرہ صاحب نے جوان لاشہ اٹھایاںے، کل کی لیے ہم تیار رہیں
حادثوں کو صرف حادثہ سمجھنے والوں سے سوال ہے کیا خالق کو سڑک پر صرف پاکستانی زندگیوں کی بلی چاہیے؟
۔
ہر سال جتنی اموات 22 کروڑ کے پاکستان میں ہوتی ہیں، اس سے نصف 34 کروڑ کے امریکہ میں کیوں ہوتی ہیں؟ حالانکہ یہاں سپیڈ لمٹ کہیں زیادہ ہے۔۔ جواب ڈسپلن، ضوابط روڈ سینس اور سخت سزا
پاکستان میں سڑکوں پر جو بھیڑچال اور بے ہنگم جنون بھاگتا ہے اس کو دیکھ کر کسی ایکسیڈنٹ پر حیرت نہیں ہوتی، حادثے سے واپس بچ کر آنا معجزہ لگتا ہ
آئیے !
کائرہ صاحب اس جنونیت کو مروجہ ضابطوں میں ڈھالیں ۔ سڑکوں کا نوالہ بننے کے بجائے ڈرائیونگ میں پرو لائف رویے سیکھیں۔
۔
خدا کی ذات قمرالزماں صاحب
آپ اور آپ کی فیملی کو حوصلہ دے )­