کیا امریکہ کیخلاف مسلم ممالک کا اتحاد بن سکے گا؟

سفارتخانے کی منتقلی کا امریکی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، جن میں مسئلے کے حل کی تجاویز دی گئی ہیں۔ یہ قدم اوسلو پلان سمیت امریکہ کی اپنی پالیسی کے بھی خلاف ہے۔ دنیا میں اس پر جو ردعمل آیا ہے بالکل جائز ہے۔ مسلمان ممالک جو او آئی سی اور عرب لیگ میں شامل ہیں، انہیں متحد ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ کچھ ایسے اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں جس سے امریکہ کو فیصلے کا نقصان بھی ہو کیونکہ محض بیانات سے کچھ نہیں ہو گا۔ ترکی اور مصر کو اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں، اگر ایسا نہیں ہوگا تو اس سے اسرائیل کو کچھ فرق نہیں پڑے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ بد قسمتی سے مسلم ممالک خصوصاً عرب مسلم ممالک کے آپس میں مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ متحدہ فرنٹ پر کھڑا ہونا چاہیں بھی تو یہ ان کے لئے مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ عرب ممالک اپنے مفاد کوبھی دیکھتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ وہ فلسطینیوں کیلئے امریکہ کے خلاف جائیں گے۔ پاکستان نے شروع سے ایک ذمہ دارانہ موقف اپنایا ہے۔ اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کئے اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان فلسطینی عوام کی جتنی بھی حمایت کر سکے، وہ کرنی چاہیے۔ اسرائیل کی امریکی حمایت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کا امریکی طاقت کے تمام مراکز پر کنٹرول ہے۔ وہ امریکہ کی سیاست، معیشت، انڈسٹری، بینکنگ، میڈیا اور شوبزنس سمیت تمام شعبوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ کانگریس میں امریکن اسرائیلی سیاسی ایکشن کمیٹی ہے جو امریکی سیاست کی سب سے طاقتور لابی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس امریکی سیاستدان کی یہ مخالفت کر دیں، وہ کبھی بھی منتخب نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ صدربھی۔ یہودی اپنی اسی طاقت کو بروئے کار لا کر کانگریس کے ذریعے اپنی چیزیں منواتے ہیں۔ کانگریس صدر پر دباؤ ڈالتی ہے، یہ سارا کھیل پیسے کا ہے۔ کانگریس نے یہ بل پاس کیا تھا کہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا جائے جبکہ امریکی انتظامیہ اب تک اس فیصلے کی مزاحمت کرتی رہی ہے لیکن چونکہ امریکی صدر بھی یہ کرنا چاہتے تھے اس لئے اب انہوں نے یہ فیصلہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں جب میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا اس وقت پاکستان او آئی سی کا سربراہ بھی تھا اور وہاں پر فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کے بارے میں قراردادیں ہمارے وفد کو ہی پیش کرنا ہوتی تھیں، جن کی امریکہ اور کبھی کبھی کینیڈا، یورپ کے چھوٹے ممالک بھی مخالف کرتے تھے لیکن جب اسرائیلی افواج مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو ظلم کا نشانہ بناتی تھیں تو ایسے میں یورپی ممالک بھی اسرائیل کی حمایت نہیں کرتے تھے، صرف امریکہ اکیلا اسرائیل کیساتھ کھڑا رہتا تھا اور ہم بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے لیکن یہ ایک الگ حقیقت ہے کہ قرارداد منظور کرانے کے بعد اقوام متحدہ کے پاس ایسی کوئی فورس نہیں جو ان پرعملدرآمد کرا سکے یا اسرائیل کو عمل کرنے پرآمادہ کراسکے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.