کیا نظام انصاف فرسودہ ہو چکا ؟

کراچی میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے ججوں پر زور دیا کہ وہ 3 ماہ کے اندر مقدمات کا فیصلہ کر دیا کریں۔ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک کے فوجداری نظام انصاف کی اصلاح کا عزم ظاہر کیا ہے، یہ اعلان کراچی میں کیا گیا جہاں چیف جسٹس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری بھی دی، ان کے اس اعلان کی بڑی وجوہ غالباً عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بہت بڑی تعداد اور اس وقت ملک میں رائج ضابطہ فوجداری ہے۔ یوں تو ملک کے نظام انصاف میں اصلاح نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات میں بھی شامل ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنوری 2015 سے اب تک اس مقصد کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ فاضل چیف جسٹس کو یہ اعلان کیوں کرنا پڑا کہ نظام انصاف میں اصلاح ان کا ایجنڈا ہے، اس کی وجہ، جیسا کہ خود چیف جسٹس نے کہا کہ مقننہ برطانوی دور کے ضابطہ فوجداری مجریہ 1860 میں اصلاحات اور ترمیم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی کے تمام ادارے زیر التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان میں سپریم کورٹ، 5 ہائیکورٹس، وفاقی شریعت عدالت اور صوبوں کی ڈسٹرکٹ کورٹس بھی شامل ہیں، یہاں تک کہ انسداد دہشت گردی کیلئے تشکیل دی گئی خصوصی عدالتوں میں بھی فرسودہ طریقہ ہائے کار کے باعث زیر التوا مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ملک بھر کی تمام عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی اس قدر بڑی تعداد کے 2 بڑے اسباب ہیں، پہلا یہ کہ ہمارا نظام انصاف فرسودہ ہو چکا ہے ، دوسرا ہمارے ملک کی پولیس فورس اب تک 1861 میں نافذ کیے گئے پولیس ایکٹ کے تحت کام کر رہی ہے، لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 30 نومبر 2017 تک ملک کی تمام اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 18,73,085 تھی، ان میں سے 2,93,316 مقدمات ملک کی پانچوں ہائی کورٹس میں التوا کا شکار تھے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے ایک سرسری جائزے کے مطابق مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد حسب ذیل تھی۔

سپریم کورٹ 38,071، لاہور ہائیکورٹ 1,47,633 ، سندھ ہائیکورٹ 93,404، پشاور ہائیکورٹ 29,525، بلوچستان ہائیکورٹ 6,510، اسلام آباد ہائیکورٹ 16,244 ( یہ عدالت 2012 میں قائم کی گئی) کراچی میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے ججوں پر زور دیا کہ وہ 3 ماہ کے اندر مقدمات کا فیصلہ کر دیا کریں، تاہم انہوں نے واضح کر دیا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی ذمہ دار صرف عدلیہ نہیں ہےَ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ صدیوں پرانے قوانین میں ترمیم کرکے انہیں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں بنا دیتی اس وقت تک عوام کو جلد انصاف نہیں مل سکتا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدلیہ قانون سازی نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ اپنے اختیار سے تجاوز کر کے پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں مداخلت کرسکتی ہے۔ جو کچھ فاضل چیف جسٹس نے کہا وہ بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن بہت سے سیاستدان ان کی باتوں کو” انتہائی تیزرفتاری” سے اقدامات اور “عدالتی فعالیت” قرار دے سکتے ہیں۔

چیف جسٹس کی جانب سے ہسپتالوں کے دورے شروع ہونے کے بعد اس قسم کی آرا غیر متوقع نہیں ہیں، بالخصوص اس لیے بھی کہ چیف جسٹس نے عوامی مفاد سے متعلق کئی امور کا از خود نوٹس لے کر کارروائی بھی کی ہے، ان معاملات میں مویشیوں کی تیز رفتار نشوونما اور ان سے زیادہ مقدار میں دودھ حاصل کرنے کیلئے انہیں دیئے جانے والے ہارمونز اور چائے میں ملانے والے ٹی وائیٹنرکو دودھ قرار دے کر فروخت کرنے پر پابندی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا بے محل نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس جن خرابیوں کو دور کرنیکی کوشش کررہے ہیں اس کے ساتھ ہی بہتر ہوگا اگر وہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے ‘‘ حکم امتناع’’ کے بے جا اجرا کی روک تھام پر بھی توجہ فرمائیں، کیونکہ ماتحت عدالتیں عموماً وکلا کے ساتھ ‘‘ہم آہنگی’’ کے بعد نہایت بے خوفی کے ساتھ حکم امتناع جاری کرتی ہیں، اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجائیگی کہ بہت بڑی تعداد میں مقدمات کے زیر التوا ہونے کا ایک سبب حکم امتناعی کا بہت زیادہ اجرا بھی شامل ہے، ہماری تجویز ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو لا اینڈ جسٹس کمیشن کے توسط سے ایسے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں جن کے نتیجے میں قانون کے ایسے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی ہوسکے جن کا مقصد محض امیروں کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے، وکلا اور انکی نمائندہ تنظیموں کو بھی عملاً قانون کا پابند بنانا ضروری ہے، اگر فاضل چیف جسٹس دیگر شعبوں میں خراب نظم و نسق اور حکام کی جانب سے اختیارات کے بے جا استعمال پر اظہار خیال فرماتے ہیں تو یہ بالکل درست اور قابل تحسین اقدام ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں بعض وکلا کی جانب سے سرکاری املاک پر قبضے یا انکے بے جا تصرف کی روک تھام پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*