گوگل پر ملازمین نے صنفی تفریق کا مقدمہ دائر کر دیا

 

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر کمپنی کے سابق ملازمین نے صنفی امتیاز کے مقدمات دائر کر دیے ہیں۔

گوگل کی خواتین ملازمیں نے کمپنی پر مرد ملازمیn کو زیادہ تنخواہ دینے کا مقدمہ دائر کیا ہے جبکہ مرد ملازمین نے سیاہ فام مردوں کے خلاف امتیازی سلوک برتنے کا الزام لگایا ہے۔

بی بی سی کے مطابق گوگل پر مقدمہ دائر کرنے والے ایک مرد ملازم کا نام جیمز ڈیمور ہے۔ جیمز ڈیمور ایک سوفٹ وئیر انجینئیر ہیں۔ ان کے ساتھ گوگل کے ایک اور سابق ملازم ڈیوڈ گوئڈامن نے بھی کمپنی کے خلاف صنفی تفریق کا مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سانتا کلارا سپیرئیر کورٹ میں دائر کیا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ یہ وہی جیمز ڈیمور ہیں جنہوں نے اگست 2017ء میں خواتین کے خلاف ایک میمو لکھا تھا جس کی بنیاد پر انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی کی خبر کے مطابق گوگل کی تین سابق خواتین ملازموں نے کمپنی پر مردوں کی نسبت کم تنخواہ دینے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی میں ایک ہی عہدے پر ایک ہی جیسا کام کرنے والے مرد اور عورت کی تنخواہ میں فرق ہے۔

گوگل نے ان تمام مقدمات کا سامنا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماضی میں بھی گوگل پر اس قسم کے مقدمات دائر ہوتے رہے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*