ہر سیاسی جماعت فنڈنگ ذرائع فراہم کرنیکی پابند ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد: تحریک انصاف فنڈنگ کیس میں جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا لگتا ہے کہ تحریک انصاف نے کسی نہ کسی حد تک ممنوعہ فنڈنگ لی لیکن فارن ایجنٹ نے امریکہ میں ہی اکاموڈیٹ کیا اور ممنوعہ فنڈز پاکستان نہیں بھیجے۔ وکیل اکرم شیخ نے عمران کو نااہل قرار دینے کی استدعا کر دی۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے دلائل میں کہا کہ امریکہ میں فارن ایجنٹ نے پارٹی پالیسی اور قانون کے خلاف فنڈز اکٹھے کئے تو ذمہ دار عمران خان کیسے ہو سکتے ہیں؟ تحریک انصاف نے پارٹی اکاؤنٹس آڈٹ کرا کے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے، کوئی مسئلہ تھا تو الیکشن کمیشن اکاؤنٹس واپس کر دیتا، الیکشن کمیشن متعصب ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آڈٹ اکاؤنٹس لیکر الیکشن کمیشن کسی جماعت کو کلیئرنس سرٹیفیکیٹ نہیں جاری کرتا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو ذرائع سے کسی سیاسی جماعت کی ممنوعہ فنڈنگ کی معلومات ملیں تو کیا وہ نظرانداز کر دے؟ فارن ایجنٹ نے وہ فنڈز اکٹھے کیسے کئے جن کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعت کے اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈز آئے یا نہیں؟ تعین کا فورم الیکشن کمیشن ہے۔ وکیل حنیف عباسی، اکرم شیخ نے دلائل میں کہا کہ فنڈ ریزنگ سے متعلق تحریک انصاف نے جعلی خود ساختہ دستاویزات عدالت میں پیش کیں، جعلی دستاویزات میں غیرملکی فنڈنگ اور کارپوریشنز کی فنڈنگ کو نکال دیا گیا، تحریک انصاف کا پیش کردہ ریکارڈ ویب سائٹ کے فنڈنگ ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا لگتا ہے ممنوعہ فنڈنگ کو فارن ایجنٹ نے امریکہ میں ہی اکاموڈیٹ کیا اور پاکستان نہیں بھیجا گیا۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ عمران خان کو ان فنڈز کی کوئی معلومات نہیں جو پاکستان نہیں آئےِ۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ممنوعہ فنڈز حاصل کئے گئے، عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی دیا۔ وہ صادق و امین نہیں رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کا سرٹیفکیٹ انکی معلومات کے مطابق تھا، وہ ہر آنے والی رقم کی نگرانی نہیں کر سکتے تھے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.