آرمی چیف کو بتا دیا، درست ایف آئی آر اور شریف براد ران کے استعفے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: طاہر القادری

 

اسلام آباد : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آرمی چیف پر واضح کر دیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے، کل تک صحیح ایف آئی آر درج نہ ہوئی اور شریف برادران برطرف نہ ہوئے تو آگے کوئی بات نہیں ہو گی اور دمادم مست قلندر ہو گا، شریف برادران کے اقتدار کے خاتمے تک ہم بات نہیں کر سکتے۔ انقلاب مارچ کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی آرمی چیف کے ساتھ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی جس میں اپنا موقف پیش کیا اور ملاقات کے بعد سیدھا جلسہ گاہ پہنچیں ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے بعد چوہدری برادران یا کسی اور شخص سے بھی ملاقات کی ہے تو یہ غلط ہے۔ آرمی چیف ایف آئی آر دیکھ کر حیران رہ گئے، وہ صبح ایف آئی آر کینسل کرا کر نئی ایف آئی آر درج کرائیں گے۔
طاہر القادری نے کہا کہ آرمی چیف کے ساتھ کا نہایت خوشگوار اور باہمی اعتماد کے ماحول میں ہوئی جس کے نتائج تو کل معلوم ہوں گے لیکن یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے ثالث بننے کی پیشکش اور ان کے ساتھ ملاقات کی حد تک میں بہت مطمئن ہوں اور پرامید ہوں کہ انقلاب مارچ کے لاکھوں لوگ جس مقصد کیلئے آئے ہیں وہ اس مقصد کے حصول میں صرف و اخلاص کے ساتھ صحیح معنوں میں اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر کے اندراج میں انتہائی دھوکہ دہی کی ہے اور حسب عادت انتہائی دھوکہ اور فریب کیا اور ٹی وی چینلز کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرنے کے بجائے اندراج کیلئے پیش کی گئی منہاج القرآن کی درخواست کا متن پیش کیا گیا جو اردو میں لکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ انگلش میں لکھے دو ایسے صفحات بھی شامل کر دیئے جن کی قانون اور آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ طاہرالقادری نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کیلئے روانہ ہونے سے پہلے ایف آئی آر کی کاپی ہمیں مل چکی تھی جسے آرمی چیف کو دکھا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے ایف آئی آر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ سراسر دھوکا ہوا ہے اور اب وہ صبح سب سے پہلی بات ایف آئی آر کو کینسل کروا کر صحیح ایف آئی اآر کو دوبارہ درج کرانے کی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں انقلاب کا مکمل ایجنڈا زیر بحث لایا گیا، اپنی زندگی میں اتنا شاندار آرمی چیف پہلے کبھی نہیں دیکھا جنہوں نے پورے صبر اور تحمل کے ساتھ ایک ایک لفظ سنا اور ہمارے نقطہ نظر کو پورے طریقے سے سمجھا، اس پر ان کا شکریہ ادا بھی کیا ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ آرمی چیف سے کہا ہے کہ انقلاب مارچ کے ایجنڈے کے میکنزم پر بات کرنے کو تیار ہیں مگر کل نواز شریف اور شہباز شریف اپنی کرسی پر نہیں چاہئیں، نئی ایف آئی آر درج ہو، اور دونوں بھائی اپنے عہدے چھوڑ دیں اور اگر یہ 3 کام کل تک ہو گئے تو اگلے پورے کے پورے پروگرام پر کمیٹیاں بٹھا کر گفتگو کر لی جائے گی۔ اگر کل تک صحیح ایف آئی آر درج نہ ہوئی اور شریف برادران مستعفی نہ ہوئے تو دمادم مست قلندر ہو گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.