Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

بدقسمتی سےاشرافیہ نےملک کوسیکیورٹی اسٹیٹ بنادیا،رضاربانی


Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

 

اسلام آباد : پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیر رہ نما اور سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ جب حکومت پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دے گی تو سازشیں ہونگی،سازشوں کا مقابلہ صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے،ملک میں موجودہ سیاسی بحران اداروں کے درمیان ریاست پر کنٹرول کرنے کی جنگ ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم کا مقصد ملک کو فلاحی ریاست بنانے تھا، مگر بدقسمتی سے اشرافیہ نے اس ملک کو سیکیورٹی اسٹیٹ بنا دیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس کے تیسرے روز پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیر رہ نما اور سینیٹر  رضا ربانی نے اپنے خطاب کا آغاز انہتائی دھیمے انداز میں کیا، تاہم جوں جوں وہ بولتے گئے ان کی آواز کی گھن گرج میں اضافہ ہوتا گیا، خطاب کے آغاز میں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ جب حکومت پارلیمنٹ کواہمیت نہیں دےگی توسازشیں ہوں گی، سازشوں کامقابلہ صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے، حکمران اشرافیہ کے جھگڑے سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا مقصد ملک کیلئے فلاحی ریاست بنانا تھا، بدقسمتی سے اشرافیہ نے ملک کو سیکیورٹی اسٹیٹ بنا دیا، ہر قسم کی آمریت وفاق کیلئے خطرناک ہیں، جمہوریت کو ڈی ریل کیا گیا تو خطرہ آئین کو نہیں ملک کو ہوگا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے جوشیلے انداز میں ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے  کل کی تقاریں یاد لائیں اور کہا کہ
کل کہا گیا کہ پارلیمان کی فتح ہوئی، یہ پہلی لڑائی ہے، جس میں پارلیمان کو جزوی فتح ہو سکتی ہے، جنگ ابھی باقی ہے، جمہوری قوتیں یہ نہ سمجھیں کہ آئندہ حملہ نہیں ہوگا، اس جنگ کا کینوس وسیع ہے، یہ اقتدار اور اداروں پر کنٹرول کی جنگ ہے، جو آگے جا کر جمہوری قوتوں کا اتحاد توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر قسم کی آمریت ملک کیلئے خطرہ ہے، جمہوریت کو ڈی ریل کیا گیا تو خطرہ آئین کو نہیں ملک کو ہوگا، 58ٹوبی ہوتا تو یہ اسمبلیاں اور پارلیمنٹ بہت پہلے ختم ہو جاتے، معاملات بات چیت سے حل ہوتے تو شاید اس صورت حال سے بچا جا سکتا تھا، کھیل کھیلنے والے جان لیں وہ پاکستان کی حدود سے کھیل رہے ہیں۔

ترامیم اور تبدیلی سے متعلق رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صوبائی خود مختاری واپس لینے کی کوشش ہوئی تو وفاق خطرے میں ہوگا، آمریت قبول نہیں خواہ کسی بھی صورت میں ہو، وزیراعظم پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے تو سازشیں جنم لیں گی، دھاندلی کے باوجود جمہوریت کیلئے الیکشن کو قبول کیا، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا،ہم نے کہا ہم سسٹم میں رہیں گے، پھر بینظیر کو راول پنڈی میں شہید کیا گیا ہم نے کہا پاکستان کھپے، ہم نے کبھی سسٹم ڈی ریل کرنے کی بات نہیں کی، پہلے 4 حلقوں کیلئے کہا گیا اور پھر مطالبے تبدیل ہوتے گئے۔

حکومت مخالف دھرنوں پر تنقید کرتے ہوئے سینیٹر ربانی کا کہنا تھا کہ ڈی چوک پر مجھے عوامی جمہوری انقلاب نظر نہیں آرہا، جمہوریت میں تمام اسٹیک ہولڈر سے بیٹھ کر بات کرنی پڑتی ہے، ایک صاحب وہ ہے جنہوں نے ملکہ برطانیہ کا حلف اٹھایا ہے، وہ صاحب کہتا ہے ایوان،آئین اور نظام کو نہیں مانتا، جن کے خلاف انقلاب آنا چاہیے وہ تو ان کے دائیں بائیں کھڑے ہیں، مزدوروں کسانوں کے بغیر کیسا انقلاب، کون سا انقلاب۔

خورشید شاہ پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے رضا ربانی پھر غصے میں بھر گئے اور کہ غصہ شاہ محمود قریشی پر تھا،نکالا خورشید شاہ پر گیا، قیادت پر انگلی اٹھانے والے سوچ لیں،جیالے نمٹنا جانتے ہیں، شہید ذوالفقار بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، 73ء کا آئین شہید بھٹو کی مرہون منت ہے، بھٹو نے عربوں کو متحد کیا،سامراج کا مقابلہ کرنے کا درس دیا، پیپلز پارٹی بھٹو اور بی بی کی روایت پر قائم ہے،سر جھکاتے نہیں کٹا دیتے ہیں، میں نے بے نظیر ماڈل کے نام سے چودہ نکات پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی بات کو مانتے ہیں ایک راستہ عوامی جمہوری انقلاب کا ہے لیکن وہ انہیں ڈی چوک پر نظر نہیں آتا۔ دوسرا راستہ نظام کے اندر رہ کر انتخابات کرواکر طریقے کو بدلنے کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انتخابی قوانین کو تبدیل کیا جائے لیکن وہ اس بات کو نہیں مانتے کیونکہ قوانین موجود ہیں، جب تک ریاست کے اسٹیک پولڈرز اور اشرافیہ اپنے آپس کے جھگڑے نہیں نمٹاتے، انتخابی نتائج وہی ہوں گے جو وہ چاہیں گے۔


Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Be the first to comment


Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Leave a Reply


Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Your email address will not be published.



Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484




Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484


Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484

Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/baadban/public_html/wp-includes/plugin.php on line 484