مذاکرات کی گاڑی آہستہ چل رہی ہے ، وزرا کے بیانات مسائل بڑھا رہے ہیں : سراج الحق

 

عوامی تحريک اور سياسی جرگے کے مذاکرات ميں طے پايا ہے کہ سيکرٹريٹ والا راستہ صبح سے ملازمين کےلئے کھول ديا جائے گا ، جب کہ رحيق عباسي کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں ہمارے قائد سے متعلق بیانات پر احتجاج رکارڈ کرایا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان عوامی تحريک اور سياسی جرگے کے درميان مذاکرات سينٹر رحمٰن ملک کے گھر پر جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق کی سربراہی میں ہوئے ، جن مذاکرات رحمان ملک ، لیاقت بلوچ ، مياں اسلم اور سینیٹر کلثوم پروین شريک تھے جب کہ عوامي تحريک کي طرف سے خرم نواز ، رحيق عباسي ، طارق بشير چيمہ نے شرکت کي۔ مذاکرات کے بعد ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے رحيق عباسي نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہمارے قائد سے متعلق بیانات پر احتجاج رکارڈ کرایا ہے ، تحريری مطالبات سياسی جرگے کے سامنے رکھ ديئے ہيں۔ ہماری تجاویز پر حکومت ہمیں تحریری یقین دہانی کرائے گی۔ پارليمنٹ کے لان سے ہمارے کارکنان نکل گئے ہيں ، سيکرٹريٹ والا راستہ بھي آج صبح ملازمين کےلئے کھول ديں گے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے امير سراج الحق کا کہنا تھا کہ امید ہےکہ نیا دن خوشخبری لے کر آئے گا ، وزراء کے بيانات سے مسائل بڑھ رہے ہيں ، مذاکرات کي گاڑي آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہي ہے۔ پارليمنٹ ميں غير مہذب زبان استعمال کي گئي ، راستے ميں سپيڈ بريکر ہيں ، حکومت اور عوامي تحريک کو ميز پر بيٹھ کر مذاکرات حل کرنے پر مبارک باد ديتا ہوں۔ ميڈيا سے گفتگو ميں رحمان ملک نے کہا کہ گالي گلوچ کي سياست نہ کي جائے۔ سياسي جرگہ کسی کے ساتھ نہيں ہے ، حکومت ، عوامي تحريک نہ ہی تحريک انصاف کے ساتھ ہيں ، معاہدہ تقريباً طے پا گيا ، ص

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.