تریموں بیراج کو شدید خطرہ، حفاظتی بند توڑنے پر غور

 

تازہ ترین صورتحال کے مطابق اس وقت دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ سات لاکھ چوہتر ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ دریائے جہلم میں سیلاب کے بعد تریموں بیراج کو بچانے کیلئے حفاظتی بند توڑنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ فلڈ سیل کے مطابق دریائے چناب میں قادر آباد ہیڈ ورکس کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کا بہاؤ سات لاکھ چوہتر ہزار کیوسک ہے۔ خانکی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کی آمد اور اخراج چھ لاکھ سینتیس ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد ایک لاکھ بانوے ہزار اور اخراج ایک لاکھ نواسی ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد اٹھارہ ہزار نو سو اور اخراج تین ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں سے ایک لاکھ چالیس ہزار کیوسک سے زائد کا ریلا گزر رہا ہے۔ یہاں پانی کی سطح نو لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر اٹھارہ ہزاری بند توڑنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ دس ہزار اور اخراج ایک لاکھ ایک ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ رسول پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ سولہ ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کی آمد اکیانوے ہزار دو سو بیس اور اخراج 80 ہزار بیس کیوسک ہے۔ دوسری جانب دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے بعد پانی کا بڑا ریلا قادر آباد پہنچ گیا ہے۔ منڈی بہاء الدین، سیالکوٹ، سکھیکی اور پھالیہ کے مزید سیکڑوں دیہات سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں۔ کئی آبادیوں کا زمینی رابطہ بھی مکمل طور پر منقطع ہے۔ حافظ آباد کے 226 دیہات کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ چنیوٹ اور جلال پور بھٹیاں میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ گجرات کو بچانے کیلئے ہیڈ خانکی کا حفاظتی بند توڑ دیا گیا ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ دریائے چناب اور جہلم کے سیلابی ریلوں کی آمد کے پیش نظر جھنگ میں ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دریائے چناب کا بڑا ریلا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ملتان پہنچے گا۔ خطرے کے باعث کئی آبادیاں خالی کرا لی گئی ہیں۔ فوج کی مدد بھی طلب کر لی گئی ہے۔ سیالکوٹ میں نالہ ڈیک اور وزیر آباد میں پلکھو نالے میں طغیانی بھی شدید نقصان کا سبب بن رہی ہے۔ بی آر بی نہر میں تین مقامات پر شگاف پڑنے سے نارنگ منڈی کے درجنوں دیہات بھی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ دریائے جہلم میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ رسول کے علاقے میں سیکڑوں دیہات پانی میں گھر گئے ہیں۔ ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی چاول اور گنے کی فصل بھی تباہ ہو گئی ہیں جبکہ سینکڑوں مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔ بھیرہ کے مقام پر بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ جھاوریاں میں بھی متاثرین کی بڑی تعداد محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہی ہے۔ دریائے راوی میں بڑا سیلابی ریلا آٹھ ستمبر کو راوی سائفن پہنچنے کا امکان ہے۔ دریا میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ بلوکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ساہیوال، ہڑپہ اور چیچہ وطنی میں کئی آبادیاں خالی کرا لی گئی ہیں۔ کبیر والا کے چھیالیس دیہات میں بھی وارننگ جاری کر دی گئی ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکیں۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ ادھر دریائے ستلج میں شدید طغیانی نے قصور کے مضافات میں کئی دیہات کو لپیٹ میں لے لیا۔ گنڈا سنگھ کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ پاکپتن اور وہاڑی کے کئی علاقوں میں بھی ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد میں چک شہزاد نگر اور بستی احمد پورہ میکلوڈ گنج میں بارشوں سے تیس سے زائد مکانوں کی چھتیں گر گئیں ہیں۔ متاثرین ابھی تک امداد کے منتظر ہیں۔ پنجاب میں تباہی کے بعد چھ لاکھ کیوسک کا ریلا پندرہ اور سولہ ستمبر کو سکھر بیراج پہنچنے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ادھر آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی میں بھی سیلاب کے باعث تین پل ٹوٹ گئے ہیں۔ تھلہ لاٹ میں دریائے پونچھ کا پل بھی ریلے میں بہہ گیا ہے جس سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ –

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.