آئین شکنی کیس، مشرف کی سابق سروسز چیفس، وزیراعظم، گورنرز کو شریک ملزم بنانیکی درخواست

 

اسلام آباد: آئین شکنی کیس میں پرویزمشرف نے اس وقت کے سروسز چیفس، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور وزرا، گورنرز سمیت دیگر معاونین کو شریک ملزم بنانے کیلیے درخواست دائرکر دی۔پرویز مشرف کے وکلا نے مؤقف اختیارکیاکہ موجودہ درخواست درست طریقہ کار کے تحت دائرنہیں گئی، عدالت اسے خارج کرے یامقدمے میں معاونین کے نام خود شامل کر دے۔ خصوصی بینچ نے پراسیکیوٹراکرم شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔سماعت کے دوران وکلائے صفائی نے ڈائریکٹر ایف آئی اے مقصود الحسن پرجرح مکمل کرلی،مقصود الحسن نے بتایا کہ انھیں ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ کسی رکن پارلیمنٹ،فوج یا حکومت کے کسی افسر نے پرویز مشرف کاحکم ماننے سے انکار کیا ہو۔انھوں نے اعتراف کیا کہ تحریری معلومات جن کی بنیادپریہ تحقیقات شروع ہوئیں ان کاذریعہ موجودہ وزیر اعظم اوران کے پرنسپل سیکریٹری ہیں تاہم تحقیقاتی ٹیم نے ان کابیان ریکارڈ نہیں کیا،عدالت نے آج مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ خالد قریشی کو طلب کرلیا۔این این آئی کے مطابق گواہ اور فروغ نسیم میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، مقصودالحسن کے بیان پرفروغ نسیم نے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، مقصودالحسن نے کہا کہ میں دیانتدار افسر ہوں، فروغ نسیم نے کہا یہ عدالتی طریقہ کار ہے، میرے سینئرہوتے توآپ کو کیا کیا کہہ دیتے، مقصودالحسن نے کہا کہ پھرمیں بھی منہ توڑجواب دیتا۔آئی این پی کے مطابق فروغ نسیم نے کہا کہ یہ مسلسل غلط بیانی کررہے ہیں، عدالت نے کہاکہ غلط بات کا تعین کرنا ہمارا کام ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.