دھرنے چاہے 100 دن چلیں، جمہوریت ختم نہ ہو، استعفوں پر معاملہ اٹک گیا، مایوس نہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی راستہ نکالنا ہے: سراج الحق

 

اسلام آباد:جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام آباد دھرنوں کے محاصرے میں ہے، یہ دھرنے چاہے 100دن چلیں، جمہوریت ختم نہیں ہونی چاہئے، استعفوں کے مطالبے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اپوزیشن جرگہ کو ڈیڈلاک ختم کرنے کا ٹاسک دیا تھا جس میں کامیاب ہوئے تھے اور تمام فریقین کو مذاکرات کی بیٹھ پر بٹھا دیا تھا جس کے بعد تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا تھا تاہم وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفوں کے معاملہ پر معاملہ اٹک گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا مسئلہ پیچیدہ بنتا جا رہا ہے، سیاسی جرگہ نے وزیراعظم نواز شریف، طاہر القادری اور عمران خان کو تجاویز دی تھیں جس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کے 15,15 ادوار ہوئے اور اب بھی یہی کوشش ہے کہ ڈیڈلاک ختم کر کے مذاکرات شروع کئے جائیں، دھرنے جتنے دن مرضی چلیں لیکن جمہوریت کا خاتمہ نہ ہو،اب بھی مایوس نہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی راستہ نکالنا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ آج سیاسی جرگہ نے دھرنے کے معاملے پر اجلاس کرنا تھا تاہم جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس کے باعث میٹنگ ملتوی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے اور استعفوں پر بات رہ گئی، آگ پر مزید تیل چھڑکنا نہیں چاہتے، بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہیں اور چاہتے ہیں مذاکرات کے ذریعے ہی معاملات حل کئے جائیں اور اگر کوئی معاہدہ ہوا تو وہ خفیہ نہیں رکھا جائے گا بلکہ عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جرگہ کسی فریق کا ساتھ نہیں دے رہا، اگر کسی کا ساتھ دیں گے تو ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.