دھرنوں پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا، کسی بھی حلقے میں منصوبہ بندی سے کوئی دھاندلی نہیں ہوئی:وزیراعظم نواز شریف

 

اسلام آباد:وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ عام انتخابات 2013ءمیں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی اور نہ ہی تحریک انصاف یا عوامی تحریک کوئی ثبوت سامنے لاسکی ، ریڈزون میں قبریں کھودنے ، خونریزی ،فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو عوام نے مستردکردیا۔سپیکرسردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہونیوالے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ 35پنکچر کی خودساختہ اورمتنازع کہانی لائی گئی، اُن حلقوں میں سے صرف 15کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ دیگر 20حلقے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں ، اُن میں سے صرف 12حلقے مسلم لیگ ن حاصل کرسکی ۔ اُنہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے صرف 20حلقوں میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کو چیلنج کیا اور اگر یہ بیس نشستیں چلی بھی جاتی توبھی مسلم لیگ ن کو فرق نہیں پڑتا، لیکن دھرنادینے والوں کو بے نقاب کرنے پر شکریہ اداکرتے ہیں جنہوں نے تحریری معاہدوں اور ضمانتوں کی خلاف ورزی کی ۔وزیراعظم کاکہناتھاکہ بیشتر مطالبات مان لیے ، اصلاحات کیلئے کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں اور دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی 10مئی سے سپریم کورٹ کو ایک درخواست کرچکے ہیں کہ کمیشن بناکر تحقیقات کرالیں ۔نواز شریف نے کہاکہ آج چین کے وزیراعظم خطے کے دورے پر ہیں لیکن ڈیڑھ فرلانگ پر موجود لوگوں کی وجہ سے پاکستانی قوم اپنے دوست ملک کے صدر کی میزبانی سے مرحوم رہی ، سوال صرف 35ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کانہیں بلکہ بین الاقوامی دنیا کو ملنے والے پیغام کاہے ۔اُنہوں نے کہاکہ ایک ایسے موقع پر دھرنے شروع کیے گئے جب ہماری فوج حالت جنگ میں ہے اور فوج کی قربانیوں کی کوریج کی بجائے میڈیا پر دھرنے چھائے رہے ، وہ مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو سلام پیش کرے ہیں۔
وزیراعظم کاکہناتھاکہ حکومت نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اُن لوگوں نے ریڈزون پر چڑھائی کی ، پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات بند کرادیں لیکن وہ واضح کرناچاہتے ہیں کہ کسی لانگ یا شارٹ مارچ سے گھبرانے والے نہیں ، کہیں ایسا نہیں ہوتاکہ مٹھی بھر لوگ پارلیمنٹ یا وزیراعظم کا گھیراﺅکرکے گھر بھیج دیں ، ایسی روایت کبھی نہیں پڑنے دیں گے اور نہ ہی کسی کو جمہوریت پر کلہاڑا چلانے کی اجازت دی جائے گی ۔اُنہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق پاکستان کی حکمرانی کا حق عوام کو ہے جو اپنی پرچی کے ذریعے اپنا لیڈر منتخب کرتے ہیں اور انتخابی نظام کی شفافیت کیلئے آخری حدتک جائیں گے لیکن اکیسویں صدی کے پاکستان
میں یہ نہیں ہوسکتا کہ ڈنڈے کے زورپر کچھ کرالیں ۔اُنہوں نے کہاکہ وہ کرسی کے لالچی نہیں ہیں ، شاہراہ دستورکو کلیئرکرنانہ کل مشکل تھا، نہ آج مشکل ہے لیکن وہ کہناچاہتے ہیں کہ انتشار اور افراءتفری کا یہ راستہ ترک کریں ، وہ خواتین اور بچوں کی وجہ سے صبر کررہے ہیں جنہیں ڈھال بنایاگیا، وہ دھرنے والوں کو بھی کہتے ہیں کہ ایک بار ضرور سوچیں کہ آپ کی اس حرکت کی وجہ سے ملک کو کتنا نقصان ہورہاہے ۔ وزیراعظم کاکہناتھاکہ وہ قوم اور پارلیمنٹ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے نیا حوصلہ دیا اور کسی صورت بھی وہ پاکستان کی جمہوریت اور عوام کی خوشحالی کے ایجنڈے پر اثر نہیں پڑنے دیں گے،ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی طاقت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے آجاتی ہے لیکن اب ایسانہیں ہوگااوراپنے آئینی حلف کی پاسداری کرتے ہوئے پارلیمنٹ اورعوام کا سرکبھی نہیں جھکنے دیں گے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.