لندن پلان کا راز فاش، بڑا ہدف چینی صدر کا دورہ ملتوی کرانا تھا، شہباز شریف

 

لاہور / ملتان / مظفر گڑھ: وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران اور قادری کے لندن پلان کا راز فاش ہوگیا ہے۔ پلان کا سب سے بڑا ٹارگٹ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی کرانا تھا تاکہ ملک لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوبا رہے اور ترقی کا پہیہ جام رہے۔عوام کو یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ لندن میں عمران اور قادری کی ملاقات کس نے کرائی۔ ملتان کی سیلاب زدہ تحصیل شجاع آباد میں متاثرین کے اجتماع سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ متاثرین کو معاوضے کی پہلی قسط عید سے قبل ان کی دہلیز پر دینے خود آئوں گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ طاہر القادری نے لندن ملاقات کا بھانڈا بیچ چوراہے خود پھوڑ دیا ہے جبکہ عمران خان عوام سے جھوٹ بولتے رہے کہ ان کی لندن میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔انھوں نے کہا کہ کینیڈا کے قادری اور عمران کی ایک ماہ گزرنے کے باوجود دال نہیں گلی کیونکہ قوم تمام حقائق سے آگاہ ہوگئی ہے۔تحریک انصاف کی قیادت نے متاثرین سیلاب سے مکمل لاتعلقی اور بے حسی کا مظاہرہ کرنے کے بعد حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے 10 کروڑ روپے امداد کی پیشکش کرکے پنجاب کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کی۔انھوں نے استفسار کیا اگر کسی کے گھر میں فوتگی ہوجائے اور ہمسایہ تعزیت کرنے کے بجائے اپنے گھر میں اونچی آواز میں گانے بجاتا رہے اور اگلے روز کھانا لیکر پہنچ جائے تو کیا اسے یہ کھانا قبول کرلینا چاہیے؟ مجمع نے بیک آواز ہوکر کہا بالکل نہیں۔ شہر سلطان مظفرگڑھ میں شہبازشریف نے ایک ہزارفٹ اونچا بند بنانے کا اعلان کیا۔ راجن پور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ لندن پلان کے پیچھے وہی لوگ ہیں جنھوں نے قرضے معاف کرائے اور پنجاب بینک میں ڈاکے ڈلوائے۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ 1973 کے بعد سب سے بڑا سیلاب آیا ہے۔ اگر شیرشاہ بند میں شگاف نہ ڈالتے تو خدانخواستہ ملتان شہر زیرآب آجاتا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سیلاب کے بعد پورے پنجاب میں جہاں جہاں بھی تکنیکی اعتبار سے پلوں پشتوں سڑکوں میں کمی بیشی ہے اس کی مرمت کی جائیگی۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’کل تک‘‘ میں میزبان جاوید چوہدری کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیا۔ میری ذمے داری ہے کہ ہم عوام کے دکھ درد میں شامل ہوں۔عمران خان کی میں کیا بات کروں، ادھر عوام پانی میں ڈوب رہے ہیں اور ادھر رقص وسرود کی محفلیں ہورہی ہیں۔ میں نے جلاوطنی سے واپسی پر ہی اپنے اثاثے ظاہر کردیے تھے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر سب کچھ موجود ہے۔ اگر میرے اثاثے غلط ثابت ہوجائیں تو میں استعفیٰ دینے کو تیار ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میرا اثاثہ پانی میں ڈوبے میرے بھائی بہن اور عوام ہیں جبکہ عمران خان کا اثاثہ ڈھول ڈھمکا اور رقص وسرود کی محفل ہے۔ ہم نے تو اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں، عمران خان اپنے اثاثے ظاہر کریں، وہ اپنے سسر اپنی ساس اپنی بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر کریں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرا اللہ جانتا ہے کہ میں فوٹوسیشن کیلیے آیا ہوں یا نہیں۔ جھنگ میں میری کوئی شوگر مل نہیں ہے، چنیوٹ میں ہے۔ میں پھر عمران خان سے درخواست کرتا ہوں کہ دھرنا چھوڑ دیں۔ قادری صاحب نے کینیڈا چلے جانا ہے ۔ جس نئے پاکستان کی یہ بات کرتے ہیں انھوں نے اس نئے پاکستان کو خود ہی اپنے پیروں سے ٹھکرا دیا ہے۔ کیا نیا پاکستان یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے بچے لندن میں رہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.