سپریم کورٹ کہے تو آج بلدیاتی الیکشن کو تیارہیں، شرجیل میمن

 

کراچی / حیدر آباد: صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کہے تو آج بلدیاتی الیکشن کرانے پر تیارہیں، اسلام آباد کے دھرنے مصنوعی ماحول ہیں کیونکہ ان دھرنوں کے ذریعے عوام کو یرغمال اورملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ملک کی عوام چند ہزارافراد کے ساتھ نہیں اورعوام کی جانب سے موجودہ حکومت کودیے گئے اعتماد کے ووٹ پرکسی کو بھی ڈاکا نہیں ڈالنے دیا جائیگا، پیر22 ستمبر سے پورے سندھ اور خصوصا کراچی میں ماہانہ صفائی اورانسدادتجاوزات کادن منایا جائے گا۔ وہ جمعے کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری(کاٹی) اور سی پی ایل سی کی جانب سے ڈسٹرکٹ رپورٹنگ سیل کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ شرجیل میمن نے کہا کہ تاجربرادری وفاق کی جانب سے گیس وپانی کے مسئلے پرسندھ کے حقوق پر ڈاکا مارنے کے خلا ف آوازبلند کرے۔ اس موقع پرایس ایم منیر نے کہا کہ عوام کوتحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔سینیٹرعبدالحسیب خان نے کہا کہ ڈسٹرکٹ رپورٹنگ سیل کے قیام کے بعد جرائم کی شرح میں مزید کمی رونما ہوجائے گی۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس غلام قادرتھیبو نے کہا کہ دنیا میں کامیاب پولیسنگ کا نظام کمیونٹی پولیس کا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتربنانے کیلیے ماہانہ بنیاد پر 2ملین روپے کی لاگت سے جدید طرز پر پولیس پٹرولنگ جاری ہے۔ حیدرآباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سابق ضلع ناظم سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے پیر سے حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں صفائی ستھرائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک ماہ کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی کی کسی کے ساتھ کوئی سیاسی چپقلش یا تنازع نہیں ہے۔اگر سپریم کورٹ ابہام دور کردے تو سندھ میں کل بھی بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے تیار تھے اور آج بھی کرانے کو تیار ہیں۔ صوبائی وزیر ماہی گیری جام خان شورو، وزیراعلی کے سیاسی معاون عبدالجبارخان، پیپلزپارٹی کے ایم این اے سید امیر علی شاہ جاموٹ، ایم کیوایم کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی سید وسیم حسین، زبیر احمد خان، راشد خلجی، دلاورقریشی اور صابرقائمخانی سمیت ڈویژنل و ضلعی حکام بھی موجود تھے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پیر کے روزشروع کی جانے والی مہم کے دوران شہری ودیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے علاوہ سرکاری عمارات اور زمینوںپر کی جانے والی تجاوزات کو ختم کرایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحدہ نے بھی اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حیدرآباد میںمحکمہ بلدیات کے گھوسٹ سرکاری ملازمین کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کے علاوہ ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے2،2 اراکین شامل ہوںگے۔ انھوں نے کہا کہ کئی مقامات پر ناجائز تعمیرات کی غیرقانونی این او سی بھی جاری کردی گئیں جہاں پلازہ تک بنادیے گئے، وہ انتباہ کرتے ہیں کہ وہ غیرقانونی تعمیرکردہ عمارات خالی کردیں کیونکہ ہم بلارعایت تمام غیرقانونی تعمیرات گرائیں گے۔انھوں نے کہاکہ ترقیاتی کام ماسٹر پلان کی بنیاد پرہونے چاہیے جس کے حوالے سے سندھ حکومت نے حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر بڑے شہروں کے ماسٹرپلان کی تیاری کے لیے رقم بھی مختص کردی ہے۔ انھوںنے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے بجٹ میں پہلی مرتبہ واٹربورڈ کراچی اور واسا حیدرآبادکو سبسٹڈی دیتے ہوئے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے بجٹ مختص کیاہے۔ انھوں نے کہا کہ غیرقانونی این او سی جاری کرنے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور سرکاری زمینوں سے تجاوزات کو ختم کرایا جائے گا۔ انھوںنے انکشاف کیاکہ حیدرآبادکی اہم شاہراہ پر اعلیٰ عدالت کے ایک جج کے بیٹے کا پلازہ ہے جوکہ انکروچمنٹ پر بنا ہے ۔تاہم انھوںنے جج کانام بتانے سے گریز کیا۔ سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے ان کاکہنا تھاکہ سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے بلدیاتی نظام کی منظوری دی اور اس کے تحت حلقہ بندیاں بھی کی گئیں، جس پر ہمارے دوستوں نے اعتراض کیااور عدالت سے رجوع کرلیاجس پرسپریم کورٹ نے حلقہ بندیاں ختم کرتے ہوئے حلقہ بندی کااختیار الیکشن کمیشن کو دے دیا جبکہ پاکستان کے آئین کے مطابق حلقہ بندیوں کی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں قومی اسمبلی کو بھی حکم دیاکہ وہ اس قانون میں ترمیم کرے جبکہ آئین کے تحت کوئی بھی ادارہ قومی اسمبلی کوحکم نہیں دے سکتا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگراس حوالے سے ابہام دور کردے تو ہم آج بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے تیار ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.