قومی اسمبلی ، دہری شہریت والوں کو انتخابات کیلیے اہل قرار دینے سمیت11بل پیش، نئے صوبوں کے لیے دستی کی تحریک مسترد

 

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں دہری شہریت کے حامل افرادکو انتخابات کے لیے اہل قرار دینے، میتوں کی بیحرمتی کے سدباب، مردارگوشت کھانے کے حوالے سے فوجداری قانون میں ترمیم، اسلام آبادتجدید کرایہ داری آرڈیننس میں ترمیم، انتخابی قوانین میں اصلاحات، انسانی اعضاوعضلات کی پیوندکاری، اقلیتوں کی نشستوں میں اضافے سمیت 11بل پیش کردیے گئے۔ایوان نے مذکورہ بل مزیدکارروائی کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوادیے، جنوبی پنجاب اورہزارہ صوبہ کے قیام کے لیے آزادرکن جمشیددستی کی بل پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔ منگل کواجلاس اسپیکرایازصادق کی زیرصدارت شروع ہوا۔ اسپیکرنے ارکان کو پرائیویٹ ممبرز بل پیش کرنے کی اجازت دی۔ نگہت شکیل، عائشہ کامران، شاہدہ اختر اورایس اے اقبال قادری نے مردہ خوری کے سدباب اورملزمان کو سزائیں دلوانے کے لیے فوجداری قانون ترمیمی بل، صاحبزادہ طارق اللہ نے صحافیوں کے تحفظ کاترمیمی بل2014 پیش کیے جبکہ عبدالرشید گوڈیل سمیت ایم کیو ایم کے17ارکان نے دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کوانتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے آئین میں 24ویں ترمیم کے بل کا مسودہ ایوان میں پیش کیا۔ن لیگ کی خالدہ منصور نے گھریلو ملازمین پر تشدد کے لیے سخت سزاؤں جبکہ ن لیگ ہی کے میاں عبدالمنان نے اسلام آبادمیں قانون کرایہ داری کا ترمیمی بل، عذرافضل ودیگرنے انتخابی قوانین میں ترامیم، آسیہ ناصر نے قومی زبان کے نفاذاور ترویج کابل، کشورزہرہ ودیگر نے انسانی اعضاوعضلات کی پیوندکاری کے ایکٹ2010 میں مزید ترمیم ، رضاحیات ہراج و دیگر نے ایوان میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں میں اضافے کے لیے دستورمیں مزیدترامیم، مولانا امیرزمان و دیگر نے بلوچستان کے انتخابی حلقوں میں اضافے کے لیے دستورکے آرٹیکلز51 اور106 میں ترمیم کابل پیش کیا۔ اسپیکر نے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو مزید غوروخوض کے لیے بھجوادیے۔ آزاد رکن جمشیددستی نے ہزارہ اورجنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم کابل دستور ترمیمی بل 2014 ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔وفاقی وزیرزاہد حامد نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار درج ہے اس کے لیے براہ راست ترمیمی بل پیش نہیں کیاجاسکتا۔ حکومتی مخالفت پراسپیکرنے تحریک پرایوان میں رائے شماری کرائی توایوان نے کثرت رائے سے بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کردی۔ قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کے چیئرمین محمودبشیر ورک نے مولاناامیر زمان کی طرف سے پیش کردہ دستور ترمیمی بل2014 اورماروی میمن کی طرف سے ترمیمی بل2014 پرقائمہ کمیٹی کی رپورٹس پیش کیں۔ ایوان میں ڈیرہ اسماعیل خان میں سینئرصحافی اکرم عابدقریشی کے مقتول بھائی، مقتول صحافیوں اور راولپنڈی میں شباب ملی کے مقتول رہنماحاجی طاہر کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ علاوہ ازیں رکن اسمبلی مزمل قریشی نے قرار دادپیش کی کہ حکومت عوام الناس کو بلامعاوضہ طبی سہولتیں فراہم کرنے کو یقینی بنانے کے لیے وفاق کے زیر انتظام اسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کے فوری اقدام کرے۔حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پرڈپٹی اسپیکرنے رائے شماری کرائی تو ایوان نے اسے متفقہ منظورکرلیا۔ بعدازاں نکتہ ہائے اعتراضات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش کمارنے عبدالستارایدھی کی فلاحی خدمات کوبھی خراجِ تحسین پیش کیااور انکے حق میں متفقہ طورپرقراردادمنظورکرنیکی تجویز پیش کی۔ ڈاکٹررمیش نے ہندو تہواردیوالی کے موقع پر ملک بھرکے ہندوملازمین کو تنخواہ کی ایڈوانس ادائیگی کویقینی بنانے کے ساتھ دیوالی کوعام تعطیل قرار دینے کامطالبہ کیا۔ عثمان ترکئی نے کہاکہ چارسدہ اور ملحقہ علاقوں میں ژالہ باری متاثرین کی مدد نہیں کی گئی، صوبائی اوروفاقی حکومت معاوضے دے۔ عمران ظفر لغاری نے کہاکہ پی پی دور میں بھرتی کیے گئے ملازمین کو فارغ کیا جارہاہے۔ عائشہ سیدنے زائد بلوں، لوڈشیڈنگ پر تنقید کی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.