شہروں میں کارروائی کیلئےفوج کوآرٹیکل245کےتحت بلاناضروری ہے،وزیرداخلہ

 

اسلام آباد :   وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار  علی خان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی سےنمٹنےکیلئے5ہزارجوانوں پرمشتمل فورس قائم کی جائیگی، پاک فوج خصوصی فورس کی تیاری اورتربیت دےگی،آرٹیکل245کےتحت ملک بھرمیں10ہزارجوان شہروں میں تعینات ہیں، وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہروں میں کارروائی کیلئےفوج کوآرٹیکل245کےتحت بلاناضروری ہے، 245کےتحت نہ بلائیں توفوج کوعدالتی کارروائیوں کاسامناکرناپڑتاہے۔

 

اسلام آباد میں سانحہ پشاور  کے تناظر  میں بلائی گئی پارلیمانی اجلاس کے دوران ایکشن کمیٹی کے سربراہ چوہدری نثار علی خان نے  اجلاس کے شرکاء کو ایکشن کمیٹی کی کارروائی سے متعلق بریف کرتے ہوئے کہا کہ  سول اور ملٹری تعلقات میں یکجہتی ہوگی تو دہشت گردوں پر مضبوط ہاتھ ڈال سکیں گے، صوبوں کی سطح پر دہشت گردی سےنمٹنےکیلئے5ہزارجوانوں پرمشتمل فورس قائم کی جائیگی،  ایک ہزاروفاق،ایک ایک ہزارچاروں صوبائی دارالحکومتوں میں تعینات ہونگے،  جس کیلئے پاک فوج خصوصی فورس کی تیاری اورتربیت دےگی۔

 

انہوں نے کہا  کہ آرٹیکل245کےتحت ملک بھرمیں10ہزارجوان شہروں میں تعینات ہیں، شہروں میں کارروائی کیلئےفوج کوآرٹیکل245کےتحت بلاناضروری ہے، 245کےتحت نہ بلائیں توفوج کوعدالتی کارروائیوں کاسامناکرناپڑتاہے،  دہشت گردوں  کے خلاف کارروائی سے متعلق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انتہائی مطلوب افرادکی ریڈبک کوباقاعدگی سےاپ ڈیٹ کیاجائیگا، سیاسی وعسکری قیادت میں یکجہتی کےبعددہشت گردوں کیخلاف مؤثرکارروائی کرسکیں گے، دہشت گردوں کےرابطوں کومنقطع کرنےپربھی اتفاق رائےہے،میڈیاکیلئےضابطہ اخلاق پرکوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی دھمکیاں میڈیاپرنشرنہیں ہونی چاہئیں، میڈیاکوچاہیےوہ دہشت گردوں کوبلیک لسٹ کرے، دہشت گردوں کوبلیک لسٹ کرنےکیلئےقانون سازی پراتفاق کیاگیا، سانحہ پشاور کے بعد میڈیا کا کردارذمہ دارانہ رہا،  ایک تنظیم پرپابندی لگتی ہےتووہ دوسرےنام سےکام شروع کردیتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو نئے ناموں کے ساتھ کام سے روکنے کی سفارش آئی ہے۔ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ پنجاب اور وفاق کے سوا کسی صوبے نے آرٹیکل 245 کی ریکوزیشن نہیں دی ، صوبوں نے ریکوزیشن نہ دی تو فوج واپس بلا لیں گے ۔ غیر قانونی سمیں بلاک کرنے میں مشکلات ہیں ۔دہشت گردوں کے خلاف ملک میں 10 ہزار فوجی لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس دہشتگردی سے نمٹ سکتی ہے نہ اس کے پاس جدید اسلحہ ہے –

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی راتوں رات ختم نہیں ہوسکتی، دہشت گردوں کے لواحقین عدالتوں میں جا کر فوج پر الزام لگاتے ہیں، فوج کا احتساب  تو  ہوتا ہے  مگر دہشت گردوں کا احتساب نہیں ہوتا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.