جوڈیشل کمیشن الیکشن شفاف قرار دے تو اسمبلیوں میں جائیں گے: عمران خان

 

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس آ گئے ہیں۔ بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اپنا ڈرافٹ بھی قوم کے سامنے رکھیں گے اور (ن) لیگ کا ڈرافٹ بھی اگر (ن) لیگ نے دھاندلی نہیں کی تو ہمارے ڈرافٹ سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ (ن) لیگ کا ڈرافٹ مان لے تو کسی قسم کا احتساب نہیں ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا این اے 122 میں بڑا فراڈ سامنے آیا ہے اور یہ سب چیزیں ڈیڑھ سال کے بعد سامنے آ رہی ہیں۔ فراڈ کے پیچھے ریٹرننگ افسران تھے ریٹرننگ افسران کے بارے میں زرداری ، اعتزاز نے بھی کہا۔ عمران خان نے کہا ریٹرننگ افسران حکم کے مطابق کام کر رہے تھے ۔ افتخار چودھری اور جسٹس رمدے ریٹرننگ افسران کو کنٹرول کر رہے تھے۔ ہم جوڈیشل کمیشن میں ثابت کریں گے کہ افتخار چودھری ،جسٹس رمدے پیچھے تھے۔ افتخار چودھری نے الیکشن سے پہلے ریٹرننگ افسران سے خطاب بھی کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا افتخار چودھری ، جسٹس رمدے نے ملک سے غداری کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا ن لیگ بتائے ٹریبونل کے فیصلے جوڈیشل کمیشن میں کیوں نہیں آ سکتے؟۔ انہوں نے کہا پنجاب ایڈیشنل چیف سیکریٹریز نے آخری تین دنوں میں لاکھوں بیلٹ پیپر چھپوائے جس کے ثبوت ہیں اسی لیے یہ جوڈیشل کمیشن سے ڈر رہے ہیں۔ پختونخوا میں اگر کوئی دھاندلی کا کہے تو آج ہی ایک ایک حلقہ کھلوا دیں گے کیونکہ ہمیں ان کی طرح خوف نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا جوڈیشل کمیشن اگر فیصلہ کر دیتا تو اسمبلی چلے جاتے لیکن اب کسی صورت اسمبلی نہیں جانا۔ سینیٹ کا الیکشن صرف پختونخوا میں لڑیں گے۔ عمران خان نے کہا وقت دے رہے ہیں لیکن حکومت کسی غلط فہمی میں نہ رہے آنکھ مچولی کے بجائے سیدھی طرح جوڈیشل کمیشن بنائے اسٹریٹ پاور رکھتے ہیں اور ملک بند کر سکتے ہیں۔ –

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.