سول نیوکلیئر معاہدہ، نریندر مودی نے اوباما کو رام کرلیا، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

 

چانکیہ سیاست کے پیروکار نریندر مودی نے سول نیوکلئیر معاہدے پر براک اوباما کو رام کر لیا ہے۔ بھارت اور امریکا میں سول ایٹمی معاہدے پر ٹریکنگ پر سب سے بڑا اختلاف تھا۔ امریکا بھارتی خوشنودی کی خاطر اپنے ہی اصول اور قوانین پس پشت ڈالتے ہوئے جوہری مواد سے ٹریکنگ ڈیوائس ہٹانے پر تیار ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر اوباما اور نریندر مودی میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا نے بھارتی مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔ اب امریکا اس بات سے لاعلم رہے گا کہ بھارت ٹیکنالوجی کا پرامن استعمال کرے گا یا ہتھیار بنائے گا؟۔ اس صورتحال نے خطے کے امن کے لئے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت اگر پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی چاہتا ہے اور اس کے کوئی پس پردہ عزائم نہیں ہیں تو وہ جوہری ہتھیاروں کی ٹریکنگ سے فرار کیوں چاہتا ہے؟ ایٹمی مواد اگر پرامن تونائی کے سوا کہیں اور استعمال نہیں کیا جائے گا تو بھارت اس کی نگرانی کیوں نہیں چاہتا؟۔ واضع رہے کہ نیوکلیئر ٹریکنگ کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال ملکوں کے درمیان ایٹمی میٹریل کا لین دین ہوتا ہے۔ اس ایٹمی مواد پر ٹریکنگ کا پورا ایک نظام ہے جسے میٹریل کے حساب سے چار مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اس سلسلے میں گائیڈ لین فراہم کرتی ہے۔ ٹریکنگ ایٹمی مواد کے پرامن مقاصد کو یقینی بنانے کی ایک کوشش ہے۔ ٹریکنگ سے ایٹمی مواد کی سکیورٹی یقینی ہو جاتی ہے۔ میٹریل کو ہر لمحہ مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ گلوبل پوزیشنگ سسٹم کے ذریعے ایٹمی مواد کے غلط استعمال کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تمام قوانین کو بلائے طاق رکھتے ہوئے امریکی معاہدہ دنیا کے امن کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.