آخر ریلیف ملے گا کیسے؟

 

تیل گھماتا ہے ملکی معیشییت کا پہیہ جب قیمتیں بڑھ جائیں تو اشیاء خوردنوش سے لیکر ہر شے کی قیمتوں کو لگ جاتے ہیں پر اور بوجھ فورا منتقل ہوتا ہے عوام کی جیب پر مگر تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہونے کے باوجود پھر بھی مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ گتھی عوام سے سلجھائے سلجھ نہیں رہی۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے بارہ روپے تک مزید کمی کر دی ہے۔ پٹرول تو سستا ملے گا مگر سبزیاں، دالیں سستی ہوئیں نہ گوشت، ٹماٹر کی قیمت پوچھ کر ہی چہرے کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے۔ پیاز کو ہاتھ لگائیں تو چھم چھم رلاتا ہے۔ کریلے کی کڑواہٹ تو اب عروج پر ہے لیکن قیمت ہے تین سو روپے فی کلو۔ ایسے میں عوام کا سوال اتنا سا ہے کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی کو یقینی بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟۔ ذخیرہ اندوزوں ، آڑتیوں اور گراں فروشوں کو لگام کون دے گا؟۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں چپ سادھے کیوں بیٹھی ہیں؟۔ دن دیہاڑے عوام کو لوٹا جا رہا ہے گڈ گورننس کے دعوے کہاں گئے۔؟ –

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.