مصر: اخوان المسلمون کے 183 حامیوں کی سزائے موت برقرار

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اگست 2013 میں دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک پولیس سٹیشن پر مظاہرین کے حملے میں 13 اہلکار ہو گئے تھے جبکہ اسی روز سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے دو کیمپوں پر دھاوا بول دیا تھا اور اس واقعہ میں معزول صدر مرسی کے سینکڑوں حامی مارے گئے تھے۔ جن ملزمان کو سزا سنائی گئی ان میں سے 140 حراست میں ہیں جبکہ باقی کو غیر حاضری میں سزا سنائی گئی۔ پولیس تھانے پر حملے میں ملوث ملزمان کو 10 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی جبکہ اس کیس میں دو افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔ مصر کے اعلیٰ مذہبی رہنما گرینڈ مفتی نے بھی سزا کی حمایت کی ہے تاہم ابھی بھی سزا پانے والے افراد عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی 37 افراد کی سزا کو ختم کر دیا گیا تھا۔ پولیس سٹیشن پر حملے کے مقدمے میں ابتدا میں 377 افراد کو ان کی غیر حاضری میں سزا سنائی گئی تھی۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں مصر میں اخوان المسلمون کے خلاف کارروائیوں اور ان کو دی جانے والی سزاوں پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے موت غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں دی گئی اور اس سے مصر کی جانب سے مقامی اور بین الاقوامی قوانین نظرانداز کرنے کا اندازہ ہوتا ہے۔ تنظیم کے شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے نائب پروگرام ڈائریکٹر حسبہ ہادجی ساروہی نے کہا ہے کہ’ سزائے موت کا فیصلہ مصر کے عدالتی نظام کے تعصب کی ایک اور مثال ہے۔ ان عدالتی فیصلوں اور سزاوں کو ختم کرنا چاہیے اور ان میں قصور وار ٹھہرائے گئے افراد کے خلاف بین الاقوامی معیار کی شفافیت کے تحت عدالتی کارروائیاں کی جانے چاہیے جس میں سزائے موت شامل نہیں ہونی چاہیے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.