وفاق کا کے الیکٹرک کو 650 میگا واٹ بجلی نہ دینے کا فیصلہ –

 

کراچی کے شہریوں کے لیے نئی پریشانی شروع ہو گئی ۔ وفاقی حکومت اور کے الیکٹرک ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ۔ وفاق نے کراچی کو نیشنل گرڈ سے 650 میگاواٹ بجلی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ بجلی ملک کے دیگر حصوں کو فراہم کی جائے گی ۔ اس فیصلے سے سیکریٹری پانی و بجلی یونس ڈاہگہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریف کیا۔ یونس ڈاہگہ کہتے ہیں وفاق کے فیصلے سے نیپرا اور این ٹی ڈی سی کو بھی آگاہ کر دیا ہے ۔ کے الیکٹرک اپنے پلانٹس سے ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتی ہے وہ اپنی استعداد کے مطابق کام کرے ۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کا موقف ہے کہ 1700 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا نہیں کر سکتے۔ 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں ہے اگر بجلی منقطع کی گئی تو وفاقی حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہو گی ۔ کے الیکٹرک کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان این ٹی ڈی سی کا کہنا ہے معاہدے کی مدت ختم ہو چکی ہے جس کے بعد توہین عدالت نہیں ہو سکتی ۔ کراچی کی بجلی کی طلب 1700 میگاواٹ ہے جبکہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت 2 ہزار میگاواٹ ہے ۔ سندھ اسمبلی میں بھی وفاق اور کے الیکٹرک میں جاری کشمکش کی گونج سنی گئی۔ ایم کیوایم کے رکن سید خالد احمد کی قرارداد منظور کر لی ۔ قرارداد کے مطابق سندھ حکومت نے وفاق کو معاہدے پر عملدرآمد کے لیے خط بھی لکھا ہے ۔ متحدہ کے رکن اسمبلی خواجہ اظہارالحق کہتے ہیں کے الیکٹرک کو 650 میگاواٹ کی فراہمی نہ روکی جائے ۔ کے الیکٹرک کو اپنی پیداوار سے ہٹ کر نیشنل گرڈ سے 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا معاہدہ پیپلزپارٹی حکومت میں کیا گیا تھا ۔ –

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.