بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سے بھتے کی طلبی کی کوئی اطلاع نہیں تھی، سابق وزیر

 

سابق صوبائی وزیر رؤوف صدیقی کہتے ہیں کہ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری سے بھتہ مانگے جانے کی کوئی اطلاع نہیں تھی، میرے احتجاج پر ملزمان کی ضمانت منسوخ ہوئی، 20 کروڑ بھتے کا معاملہ سمجھ سے باہر ہے، عدالت اسے سنجیدگی سے دیکھے۔

سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء اور سابق وزیر صنعت سندھ رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن قومی المیہ ہے، آگ لگی ہوئی تھی لوگ بتا رہے تھے مالکان اندر موجود ہیں، میں نے مالکان کیخلاف مقدمہ درج کرایا، سانحے کے بعد احتجاجاً وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے پاس فیکٹری مالکان سے بھتہ مانگے جانے کی کوئی اطلاع نہیں تھی، بھتے کی وصولی درندگی کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے، ڈھائی برس گزر گئے، بھتے کا معاملہ اب سامنے آیا ہے، بھتے کا معاملہ پہلے سامنے آتا تو ملزمان کو جیل بھجواتا، عدالت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھے۔

رہنماء ایم کیو ایم کہتے ہیں کہ 20 کروڑ روپے بھتے کا معاملہ سمجھ سے باہر ہے، سانحہ کی اب تک تحقیقات مکمل ہوجانی چاہئے تھی، فیکٹری گیٹ باہر سے بند کیا گیا تاکہ ملازمین نکل نہ سکیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.