آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے گروہ کی شناخت ہوگئی: ڈی جی آئی ایس پی آر

 

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے کا حکم مُلا فضل اللہ نے دیا تھا۔ حملہ کرنے والے زیادہ تر پاکستانی تھے۔ مُلا فضل اللہ اور عمر امین کو پکڑنے کیلئے افغانستان کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پشاور آرمی پبلک سکول پر حملہ آور ہونے والے دہشتگرد گروہ کی شناخت ہو گئی ہے۔ پشاور مینا بازار حملے میں بھی یہی گروپ ملوث تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 122 افراد شہید ہو گئے تھے۔ پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ آرمی پبلک سکول حملے کی پلاننگ افغان سرحد سے ملحقہ علاقے میں کی گئی تھی جبکہ اس دہشتگرد کارروائی کا حکم افغانستان میں چُھپے بیٹھے مُلا فضل اللہ نے دیا تھا۔ مُلا فضل اللہ نے عمر امین سے پشاور سکول پر حملے کی مشاورت کی اور اس کو حملے کا نگران مقرر کیا جبکہ ایف آر پشاور کے رہائشی حضرت علی نے منصوبے کیلئے فنڈز اکھٹے کئے۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ دہشتگردی کے واقعہ میں لگ بھگ 27 افراد ملوث تھے جن میں سے 9 کو جہنم واصل، 12 کو گرفتار جبکہ باقی دہشتگردوں کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد کے پار افغانستان سے تعاون بہتر ہو رہا ہے۔ افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں کارروائی کی جا رہی ہے۔ گرفتار دہشتگردوں میں سے 6 کو افغانستان سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مُلا فضل اللہ اور عمر امین کو پکڑنے کیلئے افغانستان کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ہمارا افغانستان سے نمبر ایک مطالبہ مُلا فضل اللہ کی حوالگی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ حملہ آور دو حصوں میں تقسیم ہو کر پشاور پہنچے۔ حملے سے پہلے دہشتگرد 4 راتیں جمرود میں ٹھہرے جبکہ ایک گروپ آرمی پبلک سکول کے پیچھے ایک گھر میں ٹھہرا۔ دہشتگرد سبیل نے حملہ آوروں کو ٹرانسپورٹ فرام کی۔ صبح سویرے دونوں گروپ اکھٹے ہوئے اور سکول پر حملہ کر دیا۔ گروپ کمانڈر عتیق الرحمان پکڑا جا چکا ہے جبکہ جمرود میں دہشتگردوں کو اپنے گھر ٹھہرانے والا مجرم بھی پکڑا گیا ہے۔ دوسرے گروپ کا کمانڈر تاج عرف عمران تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ دہشتگردوں سے شمالی وزیرستان کا زیادہ تر علاقہ خالی کر وا لیا گیا ہے۔ آئی ڈی پیز کو مارچ کے مہینے میں ان کے گھروں میں واپس لے جانے کا پروگرام ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگرد اب ہم سے کہیں چُھپ نہیں سکتے۔ دہشتگرد مارے جائیں گے اور یہی ان کا انجام ہے۔ کسی پاکستانی نے دہشتگردوں کو سزا دینے کی مخالفت نہیں کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واضع طور پر کہا کہ غیر ملکی امداد کے بغیر دہشتگردوں کی تنظیم نہیں چل سکتی۔ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کی مداخلت رہی ہے۔ فاٹا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.