پشاور اسکول حملے میں ملوث کئی دہشت گرد ہلاک و گرفتار کرلئے، آئی ایس پی آر

 

اسلام آباد : پاک فوج نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول حملے میں ملوث گروہ کے 9 افراد کو ہلاک اور 12 کو گرفتار کرلیا، ملا فضل اللہ سمیت 6 دہشت گرد بھی جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران 2 ہزار سے زائد دہشت گرد مارے جاچکے، 5 ہزار سے زائد گرفتار کرلئے گئے، پاک فوج کے 226 جوان بھی شہيد ہوچکے ہیں، بھارت پاکستان میں مداخلت کرتا رہا ہے، دہشت گرد تنظیمیں بیرونی مدد اور فنڈنگ کے بغیر نہیں چل سکتیں، اسامہ بن لادن سے متعلق اسد درانی کا بیان حقیقت کے منافی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا میڈیا بریفنگ میں کہنا ہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول دہشت گردی میں ملوث گروپ کو شناخت کرلیا، ملا فضل اللہ نے حملے کا حکم دیا، 27 افراد پر مشتمل گروہ کے 9 ملزمان مارے گئے، پاکستان اور افغانستان میں کارروائیوں کے دوران 12  دہشت گرد پکڑے جاچکے ہیں، افغانستان میں موجود ملا فضل اللہ اور عمر امیر سمیت دیگر 6 تخریب کاروں کو بھی جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کیلئے دہشت گرد جمرود کے راستے پشاور میں داخل ہوئے، اسکول کے عقب میں کالونی کی مسجد کے امام کے گھر پر ٹھہرے، فضل اللہ اور عمر امير نے آصف کو اس پورے آپريشن کا کمانڈر بنايا گيا، منصوبے ميں 3 خود کش حملہ آور بھی شامل تھے، حضرت علی نے مالی معاونت فراہم کی۔

آئی ایس پی آر نے پکڑے گئے ملزمان کی ویڈیو اور دہشت گردوں کے درمیان رابطوں کی آڈیو ریکارڈنگز بھی سنوائیں، عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے تعاون دن بہ دن بہتر ہورہا ہے، آرمی چيف نے واقعے کے بعد افغان قيادت سے فوری طور پر ملاقات کی اور اہم معلومات کا تبادلہ کيا، آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرنے والا گروپ پشاور، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ 16 دسمبر کے بعد 176 انتہائی اہم دہشتگرد مارے گئے، آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، دتہ خیل سے کافی آگے تک کا علاقہ کلیئر ہے، ملک بھر ميں انٹيلی جنس کی بنياد پر کارروائياں کررہے ہیں، 5 ہزار سے زائد دہشتگرد گرفتار ہوچکے ہیں، 2 ہزار سے زائد ہلاک کردیئے گئے، کارروائیوں میں پاک فوج کے 226 جوان شہيد اور 813 زخمی ہوئے۔

وہ کہتے ہیں کہ شمالی وزيرستان متاثرين کو مارچ تک واپس لے جانے کا منصوبہ ہے، عالمی برادری اس حوالے سے تعاون کرے، انہوں نے اسامہ بن لادن سے متعلق اسد درانی کے بیان کو حقیقت کے منافی قرار دیا، میزائل حملوں کے سوال پر وہ بولے کہ پاک فوج بھرپور کارروائی کررہی ہے، میزائل حملوں کی ضرورت نہیں، اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔

غیر ملکی مداخلت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظمیں بیرونی مدد اور فنڈنگ کے بغیر نہیں چل سکتی، بھارت پاکستان میں مداخلت کرتا رہا ہے، سرحدی خلاف ورزیا، بلوچستان اور فاٹا میں مداخلت ہوتی رہی ہے، پاکستان سے زیادہ انتہاء پسندی بھارت میں ہورہی ہے جسے پوری دنیا جانتی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.