:افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد بھارت ،چین اورکئی دوسرے ممالک کی نظریں افغانستان پر جمی ہیں۔

 

اسلام آباد(شمیم مسیح):افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد بھارت ،چین اورکئی دوسرے ممالک کی نظریں افغانستان پر جمی ہیں۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے دور حکومت کے بعد پاک ، افغان تعلقات میں بہتر ی آئی ہے۔ صدر اشرف غنی ،پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حامی ہیں اور پاکستان کے ساتھ ملکر دھشتگردی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے کا اظہار کرچکے ہیں۔پشاور آرمی پبلک سکو ل پر حملے کے واقعے کے بعد چیف آف آرمی جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے نہ صرف طالبان راہنما ملافضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کی حامی بھرلی تھی بلکہ دیگر طالبا ن کے خلاف بھی کاروائیوں میں پاکستانی افواج کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا تھا۔وزیرستان میں فوجی اپریشن کے بعد پاکستان کے اندر دھشتگردی کے واقعات میں واضع کمی نظرآئی ہے۔افغانستان میں گزشتہ کئی سالوں کی جنگی صورتحال کے بعد انفراسٹکچر، مہاجرین کی بحالی ، معاشی صورت حال کی بہتر ی کیلئیبہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت ، افغانستان میں سرمایہ کار ی کرنے اور افغان مارکیٹ پر اپنا سکہ جمانے کیلئے بے تاب ہے۔ پاکستان کی کمزور پالیسی کی وجہ سے بھارت افغانستا ن کے اندر بڑی حد تک گندم کی مارکیٹ پر قبضہ کرچکا ہے۔اسکے علاوہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت افغانستان میں بہت سے شعبوں میں کام کررہا ہے۔ چین پاکستان کے راستے افغانستان اور گوادر کی بندرگاہ پر کا م کرنے کا خواہشمند ہے ۔ پاک، چین اقتصادی راہدری اسی سلسلے کا ایک پروجیکٹ ہے۔اس منصبوبہ کی تکمیل سے خطے میں بڑی سرمایہ کاری کی توقع کی جارہی ہے۔ پاکستان کو گزشتہ بحرانوں سے نکلنے کیلئے خطے میں پرامن حالا ت کا ہونا اشد ضروری ہے۔گزشتہ ماہ امریکی سیکرٹری اسٹیٹ جان کیری نے دورہ پاکستان کے دوران پاک ، بھارت مذاکرات بحال کرنے پر زور دیاتھا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر باروک اوبامہ نے دورہ بھارت کے دوران بھارتی قیادت پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو بحال کرنے کا مشورہ دیا ۔ جس کے بعد گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم نوازشریف کو فون کرکے سیکرٹری خارجہ کو پاکستان بھجوانے اور تعلقات کو دوستانہ ماحول میں حل کرنے کا عندیہ دیا۔مودی نے نوازشریف اوردیگر جنوبی ایشیائی راہنمائوں سے بات کرنے کے بعد کہا کہ کرکٹ خطے میں لوگوں کو جوڑتا ہے اورخیرسگالی کے جذبے کوفروغ دیتا ہے۔تجزیہ نگاروں اور سابق سفارت کاروں سے اس پیش رفت کو خوش آئندہ قراردیا ہے۔سینئرتجزیہ نگار اکرم ذکی کا کہنا ہے کہ پاک بھارت دوستانہ تعلقات خطے میں امن کی ضمانت ہیں۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے نواز مودی ٹیلیفونک رابطے کو خوش آئندہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا ہدف مذاکرات کا آغاز ہے تاہم اسکا انحصار خارجہ سیکرٹری مذاکرات پر ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنی چاہیے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ، دیگر ممالک کی طرح خطے میں پاکستان کی اہمیت سے واقف ہے ۔ پاکستان نے بھارت کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی سخت مخالفت کی ۔ ادھر چین کے وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران طے ہونے والے معاملات سے بھارت کو واضع ہوگیا تھا لہذا بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔دوسری طر ف پاکستان نے بھارت کی اسلحہ کی دوڑ بارے تحفظات دور کئے بغیر اسلحہ خریداری سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے (آرمز ٹریڈ ٹریٹی)پردستخط نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔پاکستان نے واضع موقف اختیار کیا ہے کہ بھار ت کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری اسکی دفاعی ضروریا ت کی بجائے اسکی جارحیت وجارحانہ عزائم کی عکاس ہے۔دیکھنا ہے آئندہ آنے والے ہفتوں میں پاک بھارت مذاکرات سے کیا نتائج نکلتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.