اسلام آباد(۔۔۔۔۔۔۔): اسلام آبادمیں تعینات ڈنمارک کے سفیر جیسپرمولر سورسن نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو 40فی صد تک بڑھانے کی کوشش کرینگے۔ پا کستان میں بہت سے چیلنجز کے باوجود سرمایہ کار ی کے بے پناہ مواقع موجودہیں۔ڈنمار ک توانائی ، تعلیم ، صحت ، زراعت اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان کو معاونت فراہم کررہا ہے۔جی ایس پی پلس سٹیٹس کیلئے ڈنمارک نے پاکستان کی حمایت کی۔گزشتہ سال ڈنمارک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے مختلف شہروں کے دوروں کے دوران تاجروں سے ملاقات کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کی یقین دھانی کروائی۔ یورپین یونین کے تمام ممالک پاکستان کی طویل عرصے سے دھشتگردی کے خلاف کوششوں کو سراہتے ہیں۔ان خیالات کااظہارڈنمارک کے سفیر نے انٹرویو کے دوران کیا۔انہوںنے کہا کہ پاکستان دھشتگردی کے خلاف مسلسل جنگ کررہا ہے، امن قائم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششوںکو سراہتے ہیں۔ڈنمارک جی ایس پی پلس GSP + کیلئے پاکستان کا سب سے بڑا حامی تھا۔ ڈنمارک پاکستان میں جمہوری حکومت کی حمایت کرتاہے۔ موجودہ حکومت نے بیرونی سرمایہ کاروںکیلئے بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وہ رواں سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے حجم کو 40فی صد تک بڑھانا چاہتے ہیں۔ ڈنمارک پاکستان کو توانائی ، تعلیم ، صحت اور معاشی میدان میں تعاون فراہم کررہا ہے۔ نوجوانوں کی ترقی کیلئے تعلیم اور معاشی ترقی کیلئے تجارت اور زرعی میدان میں تعاون فراہم کرنا میری ترجیحات میں شامل ہے۔ بہت جلد صحافیوںکی استعداد بڑھانے کیلئے پروگرام شروع کرینگے۔ ڈنمارک کے سفیر جیسپر مرلر سورسن نے کہا ہے کہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانا انکی پہلی ترجیح ہوگی ، اس سلسلے میں ڈنمار ک کی سات بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے حال میں مختلف شہروں میں تاجروں کے وفو د سے ملاقات کے دوران تعاون کرنے کی یقین دھانی کروائی ہے۔ ڈنمار ک کے ماہرین زراعت ، صحت اورتوانائی کے شعبوں میں تعاون فراہم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے ایک عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہوسکے۔ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کیلئے اہم اقدامات کررہے ہیں تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل بہترتعلیم سے آراستہ ہوسکے۔ دھشتگردی کے خلاف جاری اپریشن کے حوالے سے ڈنمارک کے سفیر کا کہنا تھا کہ اب حالات بہتر ہورہے ہیں ، پاکستان ایک لمبے عرصے سے دھشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔اب بھی پاکستان کو بہت چیلنجز کا سامنا ہے۔ہم ملک میں جمہوری نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی مصنوعات یورپی ممالک میں برآمد کی جارہی ہیں۔ ڈنمارک نے جی ایس پی پلس کیلئے پاکستان کی حمایت کی تھی اورہم چاہتے ہیں کہ پاکستان آئند ہ سال اس اعزاز کو برقرار رکھے۔البتہ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔جسپر مولر سورسن نے بتایا کہ ڈنمار ک خیبر پختوانہ سمیت دیگر مشکل جگہوں پر بھی انسانی حقوق کی بنیاد پر تعاون فراہم کررہاہے۔ہم طبقاتی نظام سے بالاتر ہوکر سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو تعاون فراہم کررہے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ یوتھ پارلیمنٹ اور یونیورسٹیز میں جاکر طلباء اور طالبا ت کے ساتھ ملکر انکی بہتر مستقبل کیلئے پروگرام ترتیب دے رہے ہیں۔ڈنمارک کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پچاس فی صد آباد ی 20سال سے کم عمر ہے۔ لہذا ہم پرائمری سطح پر تعلیم کو عام کرنے کیلئے صوبوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔نوجوان نسل ملک و قوم کا سرمایہ ہوتی ہے لہذا ہم نے پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دی ہے۔ جیسپر مولر سورسن نے بتا یا کہ انہوںنے سیالکوٹ ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں جاکر تاجروں سے ملاقاتیں کی ، اور انہیں ڈنمار ک کی بڑی کمپینوں کے رابطے کرنے میں پل کر کردار اداکیا۔ بہت جلد ڈنمار ک کی بڑی کمپنیاں پاکستان میں اپنے کام کا آغاز کرینگی۔عورتوں اور انسانی حقوق کیلئے ڈنمار ک بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کررہا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.