آگ میں جھلستا یونیورسٹی کا طالبعلم بازیاب ، مزید حملوں کی دھمکی ،تحقیقات میں نیا موڑآگیا

 

مبینہ طورپراغواءہونیوالے اقراءیونیورسٹی کے طالبعلم کو نامعلوم افراد آگ کے شعلوں میں لپٹی حالت میں محمود آباد کے علاقے میں گاڑی سے پھینک کر فرارہوگئے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ آپریشن نہ رکاتو طلباءکو اِسی طرح جلایاجائے گاتاہم پولیس نے ایک رکشہ ڈرائیورکوگرفتار کرلیاجس نے اپنے بیان میں بتایاکہ پیر کو اُس نے طالبعلم حارث کو ڈیفنس کے علاقے میں چھوڑا تھا اور اُس کے ساتھ ایک لڑکی بھی موجود تھی ۔ نامعلوم ملزمان جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب ڈیفنس کے علاقے میں چلتی گاڑی سے مغوی نوجوان اوراس کا سامان پھینک کر فرار ہوگئے ، مقامی لوگوں نے آگ میں جھلستے نوجوان کے کپڑوں لگی آگ بجھائی اور سول ہسپتال کے برن وارڈ میں منتقل کردیاجہاں اُسے طبی امداددی جارہی ہے ۔ ڈاکٹروں کاکہناتھاکہ حارث کا 35فیصدجسم جھلس چکاہے تاہم حالت خطرے سے باہر ہے ۔ہسپتال میں زیرعلاج نوجوان نے تحقیقاتی اداروں کو بتایاکہ ایک لال رنگ کی ڈبل کیبن میں اُسے اُٹھایاگیااور ڈیفنس کے علاقے میں لے گئے جس کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، آگ لگا کر گاڑی سے باہر پھینک گئے اور مطالبات ماننے کی بات کرتے تھے ۔حارث کاکہناتھاکہ ملزمان میں چار لڑکے اور ایک لڑکی شامل تھی جو پشتومیں بات کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ اُن کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتاسکتا۔حارث کے والد جاوید کاکہناتھاکہ ’بچہ‘ ا س سے قبل بھی اغواءہوچکاہے ، کسی سے دشمنی نہیں تاہم اغواءکا مقدمہ تھانہ بلوچ کالونی میں درج ہوچکاہے ۔
دوسری طرف حارث کو ڈیفنس چھوڑکرآنے والے رکشہ ڈرائیور نے پولیس کودیئے گئے اپنے بیان میں بتایاکہ وہ حارث کو ڈیفنس چھوڑ کرآیاتھا اورحارث اکیلانہیں ، اُس کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود تھی ۔ ڈیفنس کیلئے 250روپے طے ہوئے لیکن وہاں پہنچ کر 230روپے ادائیگی کی اور کہاکہ مزید پیسے کھلے نہیں ۔رکشہ ڈرائیور کے بیان کے بعد تحقیقات میں ایک نیا موڑآگیاہے اور پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار یونیورسٹی اور تعلقات والے لوگوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیاہے اور ابتدائی طورپر اس پہلو پر تفتیش کی جارہی ہے کہ آیا یہ ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے یا دہشتگردی کی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.