کراچی : نوجوان عشق کی آگ میں جل گیا، تحقیقات میں طالبعلم کے متضاد بیانات

 

کراچی : کراچی یونیورسٹی کے زخمی طالبعلم حارث جاوید کا بیان اور حقائق میں تضاد، پولیس کا کہنا ہے کہ حارث کو کسی نے اغواء نہیں کیا تھا وہ اپنی مرضی سے لڑکی کے ساتھ ڈیفنس کے شیشہ کیفے گیا تھا، اصل کہانی جلد سامنے آجائے گی۔

کراچی میں طالب علم کا اغواء اور جلانے کا کیس پولیس نے ٹوپی ڈرامہ قرار دے دیا، حارث جاوید کا بیان تھا کہ اسے یورنیورٹی کے باہر سے اغواء کیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ نوجوان کو اغواء نہیں کیا گیا بلکہ اپنی مرضی سے رکشہ میں نقاب پوش لڑکی کے ساتھ ڈیفنس کے شیشہ کیفے گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رکشہ ڈرائیور فیاض کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا، تحقیقات کے دوران حارث جاوید اور اس کے والد ملک جاوید کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے۔

ایس ایس پی ساوتھ طارق دھاریجو کے مطابق حارث جاوید اپنا موبائل فون بھی گھر چھوڑ کر گیا تھا، تحقیقات میں چند ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبعلم کو نہ تو کسی نے اغواء کیا اور نہ ہی جلایا، اگر کوئی حارث کو جلاتا تو اس کا چہرہ بھی جلتا، پیٹرول کی بوتل جائے وقوعہ سے نہیں ملی۔

پولیس اس لڑکی کو بھی تلاش کررہی ہے جو حارث کے ساتھ شیشہ کیفے گئی تھی، حارث کا موبائل ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ بہت جلد حقائق ثبوت کے ساتھ سامنے آجائیں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.