بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ ، بے روزگار نوجوانوں کا داعش کے ہتھے چڑھنے کا انکشاف

ذرائع کا کہنا تھا داعش کے سہولت کاروں نے مختلف شہروں میں اپنا نیٹ ورک بنا رکھا ہے جبکہ کئی مدعی پارٹیوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور مقامی تھانوں میں درخواستیں دے رکھی ہیں تاہم اس سلسلے میں ایف آئی اے کا کہنا تھا کئی بے روزگار نوجوانوں کو جھانسہ دینے والے گروہ کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ، اس نیٹ ورک کو کالعدم تنظیم چلارہی ہے ، انکے دیگر ساتھی مختلف ممالک کے بارڈر پر ہی موجود ہیں ، انکے بارے میں مکمل کوائف سفارتخانوں میں بھجوا دیئے گئے ہیں۔
تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کا بیرون ملک بھجوانے کے جھانسے میں آکر کالعدم تنظیم داعش کے ہتھے چڑھانے کا انکشاف ہوا ہے ، غیر قانونی طور پر ایک سال کے دوران بیرون ممالک جانیوالے 20 بے روزگا تعلیم یافتہ نوجوان پراسرار طور پر لاپتہ ہیں ، ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم داعش کے سہولت کاروں نے پنجاب کے مختلف شہروں لاہور ، فیصل آباد ، ساہیوال ، ملتان ، گجرات ، قصور ، نارووال ، جہلم ، راولپنڈی میں اپنے دفاتر کھول رکھے ہیں۔

بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان کو بیرون ملک بجھوانے کا جھانسہ دیکر کوئٹہ سے ایران بارڈر کراس کروانے کے بعد یونان ، ترکی ، اٹلی ، جرمنی ، یورپ و دیگر ممالک میں بھجوا کر دہشتگردی کی کارروائی میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے ، یہ انکشاف اس دوران ہوا جب فیصل آباد گورونانک پورہ کی رہائشی پروین اختر نے تھانہ گلبرک اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست دی جس میں اس نے موقف اخیتار کیا کہ اخلاق جو کہ جرمنی میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہے ، اسکا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے ، اخلاق اور اسکے رشتہ دار بھی اسی تنظٰم کے لئے کام کرتے ہیں ، اخلاق نے سبز باغ دکھائے ، پانچ لاکھ روپے وصول کئے اور معاہدہ کیا کہ اسکے جوان بیٹے بی اے پاس ذیشان عرف شانی کو جرمنی بھجوادیگا ، بیرون ملک جانے کے لئے تیار ہونیوالوں میں ذیشان کے ہمراہ دیگر پانچ بے روز گار نوجوان اور چند خواتین بھی شامل تھیں ، تمام افراد کو کوئٹہ بلوایا گیا جہاں انکو ایک کمرے میں محبوس کردیا گیا اور جہاد پر لیکچر دیئے گئے ، دو روز کے بعد تمام افراد کو ایران بارڈر عبور کروانے کے بعد وہاں دہشتگردوں کے حوالے کر دیا گیا ، ویاں نوجوانوں پر کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کے لئے دباؤ ڈالا گیا ، دھمکیاں بھی دیں اور بھاری معاوضے کا لالچ بھی دیا گیا ، ذیشان نے موقع پا کر فون پر اپنے لواحقین سے رابطہ کیا ، والدہ پروین نے اخلاق سے جرمنی رابطہ کیا تو اخلاق نے دھمکیاں دیں،تا ہم پروین اختر نے ایران بارڈر کے قریب کالعدم تنظیم سے رابطہ کرنیوالوں سے رابطہ کیا تو 7 لاکھ تاوان کی ادائیگی کے بعد ذیشان اور اسکی رشتہ دار خاتون واپس گھر پہنچے ، ایف آئی اے نے پروین اور گواہان کے بیانات قلمبند کئے اور تھانہ گلبرگ نے ملزموں کے خلاف رپورٹ تیار کرکے عدالت بھجوادی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.