ایران اور امریکا کے درمیان صورتحال انتہائ کشیدہ ہو چکی ہے۔ امریکا کے ایران کے ساتھ کیے ایٹمی معاہدے سے باہر ہونے کے بعد ممکنہ ایرانی نیوکلئیر پروگرام کو روکنے کے لیے ایران سے ملحقہ سمندر میں اپنا ایک بحری بیڑہ بیجھا تھا۔ اسکے بعد قطر میں قائم امریکی فضائ اڈے پر چار بی-52 بمبار طیارے بھی پہنچا دئیے گئے تھے۔ یہ خبریں چند روز پہلے کی ہیں لیکن اس کشیدگی کو اصل ہوا گزشتہ روز ملی۔ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ سے تھوڑے فاصلے پر سمندر میں 4 سے 10 کے قریب سعودی عرب کے تیل لیجانے والے جہاز جلتے ہوئے ملے۔ ایران کی جانب سے امریکا پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ تیل کے جہازوں کو امریکا کے فائٹر طیاروں نے تباہ کیا۔ جبکہ امریکا ایران پر الزام لگا رہا ہے کہ یہ کام ایران کی آبدوزوں کا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا نے خلیج فارس کی جانب میزائلز سے لیس اپنا دوسرا بحری بیڑا بھی روانہ کر دیا ہے۔ ایران نے امریکا کے اس جنگی اقدام پر بیان جاری کیا ہے کہ ہمارا صرف ایک بلاسٹک میزائل امریکا کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ امریکا اور ایران کی اس لفظی جنگ میں سب سے زیادہ خوفزدہ ملک اسرائیل نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل کے وزیر توانائ کے بقول، ہمیں خدشہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا میں جنگ ہوتی ہے تو یقیننی طور پر ایران کے بلاسٹک میزائلز کا نشانہ اسرائیل ہو گا۔ دوسری طرف پاکستان نے ایران سے تاریخی دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ اور کہا ہے کہ یہ حملہ پورے خطے کی تباہی کا باعث بنے گا۔ اب یہاں آخر پر چند باتیں میں اپنی جانب سے شامل کرتا چلوں، ہر باشعور پاکستانی جانتا ہے کہ افغانستان پر امریکی حملے میں پاکستان کو بھاری قیمت چکھانی پڑی ہے، اب اگر ایسا کوئ حملہ ایران پر ہوتا ہے تو پاکستان کی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ایران سے نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد پاکستان آ جائے گی۔ پاکستان میں فرقہ واریت کا بازار گرم ہو گا اور مسلک کے نام پر قتل عام ہوں گے۔ لہزا ایک باشعور پاکستانی ہونے کے ناطے ایسی کسی بھی فرقہ ورانہ عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو آپ کو اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف کر دے۔ #کاپی

May 14, 2019 Baadban 0