چیف جسٹس ھای کورٹ مدراس کا نڈر فیصلہ کی تفصیلات کے لئے یہاں کلک کیجئے ٹ

چیف جسٹس مدراس ہائیکورٹ تاھل رامانی تمہیں سلیوٹ

اگست 2002
میں گجرات میں پولیس کی معیت میں ہندو بلوائوں نے مسلمانوں کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ پولیس اہل کار اور بلوائی بلقیس بانو کے گھر میں گھس گئے۔ وہ اس وقت ایک معصوم بچی کی ماں تھی، دوسری زندگی اس کے ساتھ پل رہی تھی۔ ہندئووں نے پہلے بلقیس کی گود ہمیں خوف زدہ بچی پر حملہ کیا، اسے ماں سے چھین کر دیوار پر دے مارا۔ ایک لمبی چیخ کے ساتھ سناٹا چھا گیا۔
11 ہندو بلوائی بیٹی کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد اس کی ماں کی جانب لپکے۔ ماں، باپ اور بھائیوں کے سامنے بلقیس بانو کی عزت کو تار تار کرنے کے بعد انہوں نے بلقیس کے سامنے اس کی ماں، باپ، بہن اور بھائیوں کو تیز دھار آلات سے ذبح کر دیا۔ پورا گھر کسی مذبج خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔
اس وحشیانہ حملے میں بلقیس، اور اس کے دو بھائی زندہ بچے۔ جملہ آور ہندو بلوائی جاتے جاتے 7 مقتولین کی لاشوں کو بھی ساتھ لے گئے۔ ان لاشوں کا اب تک سراغ نہیں ملا۔
ماتحت عدالت نے سات افراد کو سزا سنائی۔ مجرم ممبئی ہائی کورٹ میں چلے گئے جہاں انہوں نے انسانیت سوز دلائل دئیے۔۔۔
ایک دلیل: بلقیس نے ایک بچے کو جنم دیا۔اگر 11 افراد نے گینگ ریپ کیا ہوتا تو بچی مر گئی ہوتی
دوسری دلیل: سات مقتولین کی لاشیں نہیں ملیں ۔۔وہ زندہ ہیں اور انہیں کہیں چھپا کر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے
مجرموں کے دبائو کی وجہ سے مقدمہ ممبئی ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا۔جہاں اس وقت وی کے تاہل رامانی قائم مقام چیف جسٹس تھیں ۔سی بی آئی کو امید تھی کہ وہ عورت ہیں، دبائو میں آکر تمام مجرموں کو باعزت بری کر دیں گی۔۔تاہل رامانی شدید دبائو کا شکار تھیں مگر مودی سرکار کی آمرانہ حکومت میں چیف جسٹس حق کے لئے ڈٹ گئیں ۔۔
سات لوگوں نے جانیں دی ہیں ۔۔۔ایک 19 سالہ بچی کا گینگ ریپ ہوا ہے۔۔۔۔انصاف ہوگا۔۔انہوں نے قسم قسم کا دبائو قبول کرنے سے انکار کیا۔
وی کے رامانی نے ملزموں کی سزآ بجال رکھتے ہوئے انہیں جیل بھجوا دیا۔۔
اس کے چند ماہ بعد اتاہل رامانی کے تبادلے کی فائل نکلی۔ حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا مقدمہ سننے سے ہی انکار کر دیا ہے ۔اسی چیف جسٹس نے وی کے تاہل رامانی کو میگھالیہ کی چھوٹی سی ہائی کورٹ جانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر عمل در آمد کا وقت آ گیا تھا۔ انہوں نے نظرثانی کی درخواست دائر کی جو مسترد کر دی گئی ہے۔

جس کے بعد آج وی کے تاہل رامانی نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔
محترمہ جج صاجہ ہم آپ کو تہہ دل سے سلیوٹ کرتے ہیں