KHUTBAE HAJJ 2020: Allah has not given any incurable disease, Hajj Sermon. Merchants should cooperate with each other to get out of this situation. Allah has forbidden usury and eating the wealth of orphans. No one’s right should be violated, no one should be associated except Allah, parents should be respected. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں دی جس کا علاج نہ ہو، خطبہ حج
تاجروں کو چاہیے ایک دوسرے سے تعاون کریں تاکہ اس آیام شدت سے باہر نکلا جاسکے،اللہ نے سود کو حرام اور یتیم کا مال کھانے کو حرام کہا ہے،
کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے،اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ کیا جائے، والدین کا احترام کیا جائے، ان کے سامنے اف تک نہ کیا جائے، ان سے نگاہیں جھکا کر بات کریں
، کورونا اگر آزمائش ہے تو اللہ تعالی ٰ کی رحمت کے دروازے بھی کھلے ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے اللہ کریم نے ہمیں آزما ئش میں مبتلا کیا ہے،مسجد نمرہ میںخطبہ حج
مکہ مکرمہ/میدان عرفات(پوسٹ رپورٹ )شیخ عبداللہ بن سلیمان نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر مشکلات اللہ کا امتحان ہے، اللہ کے حکم سے ہی مشکلات آتی ہیں لیکن اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں دی جس کا علاج نہ ہو۔ کورونا اگر آزمائش ہے تو اللہ تعالی ٰ کی رحمت کے دروازے بھی کھلے ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے اللہ کریم نے ہمیں آزما ئش میں مبتلا کیا ہے، قرآن مجید میں ہے کہ معمولی مصیبت بڑے عذاب سے اگا ہی ہے ، وباء میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات دیں سعودی عرب میں حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے بعد روح پرور خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ واحد ہے تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے اور صرف اسی سے مدد مانگنی چاہیے، اللہ تعالیٰٰ نے ارشاد فرمایا کہ میری عبادت کرو اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔شیخ عبداللہ بن سلیمان نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ۖکو آخری نبی بنا کر بھیجا ہے، اللہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے اور اگر وہ آزمائش میں پورے ہوجائیں تو اللہ کی جانب سے انہیں نوازا جاتا ہے ، کورونا اگر آزمائش ہے تو اللہ تعالی ٰ کی رحمت کے دروازے بھی کھلے ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے اللہ کریم نے ہمیں آزما ئش میں مبتلا کیا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے کہ معمولی مصیبت بڑے عذاب سے اگا ہی ہے ، وباء میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات دیںمسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم میرے نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، لہٰذا ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ، کائنات میں ایسے کوئی شے نہیں جو اللہ نہ جانتا ہو، ہر وہ بات جو تمہارے نفس اور دل میں چھپی ہوئی ہے وہ بھی اللہ جانتا ہے، مصائب، مشکلات کا آنا اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے، اس وقت معاشی طور پر مسائل اور شدائد کا سامنا ہے، شریعہ اسلامیہ نے بھی فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں کو جانچتا ہے، لہٰذا تجارت کرنے والے تاجروں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں تاکہ اس آیام شدت سے باہر نکلا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے سود کو حرام اور یتیم کا مال کھانے کو حرام کہا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے قرآن پاک کی ان آیات کا حوالہ دیا جس میں ایک دوسرے سے لین دین کا ذکر کیا گیا۔حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جبکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ کیا جائے، اس کے بعد والدین کا احترام کیا جائے، حتیٰ کے ان کے سامنے اف تک نہ کیا جائے، ان سے نگاہیں جھکا کر بات کریں، یہ ضروری ہے کہ والدین کا احترام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اللہ قرآن میں عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور برائی سے بچنے کا کہتا ہے ، اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر اہل ایمان کے دو گروہوں میں لڑائی یا اختلاف ہوجائے تو آپ اس میں ثالث بن کر اسے ختم کریں کیونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے یہ ذمہ داری ہے کہ جب اسے نماز کے لیے بلایا جائے تو وضو کا انتظام کرے خطبہ حج میں انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں دی جس کا علاج نہ ہو، حضور ۖ نے فرمایا کہ طاعون زدہ علاقے میں تم داخل نہ ہو اور جو اس علاقے میں موجود ہیں وہ وہاں سے باہر نہ نکلیں۔سعودی حکومت کی کاوشوں کو بیان کرتے ہوئے شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ مصائب کے باوجود سعودی حکومت نے حج کا انتظام کیا اور حاجیوں کو سہولت فراہم کی اور کوشش کی کہ مسلمانوں کو اس بیماری سے بچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن تمام دنوں سے بڑا دن ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو چاہیے کہ اللہ کا ذکر ادا کرو اور ان مصائب اور مشکلات کے لیے دعا کرو اور میں بھی یہ دعا کرتا ہوں کہ مسلمان ہر طرح کی بدعت اور خرافات سے دور رہیں، اللہ کے حکم سے ہی مصیبتیں آتی اور دور ہوتی ہیں، مشکلات دائمی نہیں اللہ کا فرمان ہے ہر مشکل کے بعدآسانی ہے۔خطبہ حج میں کہا گیا ہے کہ دنیاوی زندگی کبھی مصائب اور مشکلات سے خالی نہیں ہوتی، مصیبتیں اور مشکلات انسان کو اللہ کے ہونے کا یقین دلاتی ہیں، اللہ انسان کے لیے مشکل نہیں آسانی چاہتا ہے۔ خطبہ حج میں کہا گیا ہیکہ قرآن مجید میں عدل و انصاف کا درس دیا گیا ہے، اسلام کسی بھی قسم کے فتنے کو پھیلانے سے روکتا ہے، اسلامی تعلیمات ہر اس چیز سے اجتناب کا درس دیتی ہے جو انسانی صحت کے لیے مضر ہو، اللہ نے انبیا کو تذکیہ نفس کے لیے بھیجا، اللہ نے مرد وعورت کوباہمی احترام اور خیال رکھنے کا درس دیا ہے، اسلام غربا اور مساکین کے حقوق کا تحفظ رکھنے کابھی درس دیتا ہے۔شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ نبی کریمۖ نے فرمایا اگر کسی جگہ وبائی مرض پھیلے تو وہاں نہ جاؤ، جس جگہ وبائی مرض ہو وہاں کے لوگ کسی اور جگہ نہ جائیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*