آرمی پبلک سکول کے زمہ دران عبرت کا نشان بناے جاے گئے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کیا کھا تفصیلات کے لئے یہاں کلک کیجئے

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے ذمے داران کو نہیں چھوڑیں گے، چیف جسٹس
سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لینے کا حکم ، انکوائری کمیشن کی 6 جلدوں پر مشتمل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی
ابھی ہم نے رپورٹ نہیں پڑھی، حکومت کا جواب آئے گا تو دیکھ لیں گے، قانون اور آئین کے مطابق جو ہوگا وہیں کریں گے،چیف جسٹس
اسلام آباد(پوسٹ رپورٹ) سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس میں وفاقی حکومت کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ، چیف جسٹس نے کہا سانحہ اے پی ایس کے ذمے داران کو نہیں چھوڑیں گے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سماعت کی۔سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا سانحہ اے پی ایس کے ذمے داران کو نہیں چھوڑیں گے، غفلت کے مرتکب افراد سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اعتمادرکھیں سپریم کورٹ حق اور انصاف کی بات کرے گی، شہید کی والدہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمارے بچے محفوظ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا عدلیہ آپکی محافظ ہے، پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی ہے۔دوران سماعت والدین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ خفیہ رپورٹ ہے ابھی ہم اٹارنی جنرل کو فراہم کررہے ہیں، جوہوگا ہم ضرور کریں گے،اس بات پردوسری رائے نہیں، کمیشن ہم نے بنا یا ہم اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔چیف جسٹس نے مزید کہا رپسند عناصر اسکول میں داخل ہوئیانہوں نیبچوں کونشانہ بنایا، جن لوگوں کی کوتاہی ہے ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے، والدین کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں نہیں رہے سکتے یہاں ہمارے بچے محفوظ نہیں تو جسٹس گلزار احمد نے کہا ایسی بات نہ کہیں عدلیہ آپ کی محافظ ہے، جو حقائق رپورٹ میں آئے ہیں ان پرفیصلہ عدالت نیہی کرناہے۔ عدالت نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کمیشن کی رپورٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا اٹارنی جنرل وفاقی حکومت سے ہدایت لے کر عدالت کو جواب دیں، اٹارنی جنرل کے جواب کی روشنی میں کیس آگیبڑھائیں گے۔عدالت نے آئندہ سماعت پراٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونیکا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 4ہفتے تک ملتوی کر دی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*