طالبان کا افغان فورسزپر بڑا حملہ18تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا سیکیورٹی فورسز نے بغلان اور جوزوان کے صوبوں میں فضائی اور زمینی کارروائی کی تھی جس کا جواب دیا گیا، طالبان بین الافغان مذکرات کے دوران جنگ بندی نہیں کریں گے وقت آنے پر فیصلہ کریں گے،افغان طالبان کا دوٹوک اعلان Click on the link to see full news on BAADBAN TV

طالبان کا افغان فورسزپر بڑا حملہ18تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا
سیکیورٹی فورسز نے بغلان اور جوزوان کے صوبوں میں فضائی اور زمینی کارروائی کی تھی جس کا جواب دیا گیا، طالبان
بین الافغان مذکرات کے دوران جنگ بندی نہیں کریں گے وقت آنے پر فیصلہ کریں گے،افغان طالبان کا دوٹوک اعلان
کابل(پوسٹ رپورٹ )افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک طرف بین الافغان مذاکرات جبکہ دوسری جانب افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے. افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان فواد امان نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ طالبان کی جانب سے حملوں میں کمی آئے گی لیکن بدقسمتی سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے.تاہم طالبان پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ وہ بین الافغان مذکرات کے دوران جنگ بندی نہیں کریں گے جنگ بندی کا فیصلہ درست وقت آنے پر کیا جائے گاافغان امور کے ماہرین کا کہنا ہے طالبان عسکری لحاظ سے انتہائی مضبوط پوزیشن پر ہیں جبکہ حکومتی پوزیشن بہت زیادہ کمزور ہے اور کئی علاقوں میں افغانستان کی فوج کے مقامی کمانڈروں کا طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال کر ان کے ساتھ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان جو مضبوط عسکری پوزیشن حاصل کی ہے وہ اسے گنوانا نہیں چاہتے.ماہرین کا کہنا ہے مذکرات بنیادی طور پر امریکا اور نیٹو اتحادیوں کی مجبوری ہے اور ان کی مقررکردہ کابل حکومت کے لیے غیرملکی آقاں کے احکامات کو ماننا غنی حکومت کی مجبوری ہے لہذا انہیں وہی کرنا پڑرہا ہے جس کی انہیں ہدایات مل رہی ہیں غنی حکومت نے پچھلے دنوں مزارشریف کے جلادکے نام سے معروف رشید دوستم کو نہ صرف اعلی ترین فوجی اعزازعطاکیا بلکہ انہیں افغان افواج کا مارشل بھی مقرر کرنے کا اعلان کیا تاہم ازبک النسل رشید دوستم نہ صرف بڑھاپے کا شکار ہوچکے ہیں بلکہ ان کے کئی قریبی قبائلی کمانڈر جن کی طاقت کے زور پر وہ مزار شریف کے علاقے کے بادشاہ سمجھے جاتے تھے وہ انہیں چھوڑ کر جاچکے ہیں .ادھر افغان حکومت کے ترجمان کے مطابق مذاکرات کے آغاز سے قبل طالبان نے ملک کے مختلف علاقوں میں افغان فورسز اور سرکاری تنصیبات پر 18 حملے کیے انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ہفتے کو کیے جانے والے حملوں سے متعلق ان کے پاس درست معلومات نہیں ہیں البتہ ان حملوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے. افغانستان کے صوبے قندروز اور کاپیسا کے حکام نے طالبان کی جانب سے ہفتے کو کیے جانے والے حملوں کی تصدیق کی ہے دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قندروز کی مرکزی شاہراہ پر افغان فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے جو جنگجوں کے خلاف کارروائی کی غرض سے آ رہا تھا.انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بغلان اور جوزوان کے صوبوں میں فضائی اور زمینی کارروائی کی تھی جس کا جواب دیا گیایاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رواں برس فروری کے آخر میں ایک امن معاہدہ طے پایا تھا

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*