زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لئے قانون سازی کی جائے، وفاقی کابینہ جنسی درندوں کو سخت اور فوری سزائیں دینے لیے قانون سازی کرنا ہماری ذمہ داری ہے، کابینہ ارکان، وزیراعظم کوئی بھی فیصلہ اکیلے نہیں کرتے،شبلی فراز کورونا کے بعد پہلے معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور اب تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، والدینایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے،وزیر اطلاعات کی بریفنگ Click on the link to see full news on BAADBAN TV

زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لئے قانون سازی کی جائے، وفاقی کابینہ
جنسی درندوں کو سخت اور فوری سزائیں دینے لیے قانون سازی کرنا ہماری ذمہ داری ہے، کابینہ ارکان، وزیراعظم کوئی بھی فیصلہ اکیلے نہیں کرتے،شبلی فراز
کورونا کے بعد پہلے معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور اب تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، والدینایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے،وزیر اطلاعات کی بریفنگ
اسلام آباد(پوسٹ رپورٹ ) وفاقی کابینہ نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کیلیے قانون سازی کرنے کا مطالبہ کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں موٹروے واقعہ بھی زیربحث آیا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سنگین سزائیں دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کردیا۔ ارکان نے کہا کہ جنسی درندوں کو سخت اور فوری سزائیں دینے لیے قانون سازی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سینیٹ میٹنگ میں ممبران پارلیمنٹ جب منتخب ہوتے ہیں تو ان کا مخصوص وقت میں حلف لینا ضروری ہونا چاہیے۔ الیکٹورل ڈائریکٹریٹ میں ابھی تک ایسی کوئی بندش نہیں۔ سینیٹ میں اسحاق ڈار نے ابھی تک حلف نہیں لیا۔ 60سے 90 دن سے قانون سازی کی بات ہو رہی ہے تاکہ جس حلقے سے بھی منتخب ہوئے ہیں اس حلقے کی عوام کو مایوس نہ ہوں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسری اہم بات کابینہ میں زیربحث لائی گئی کہ اسلام آباد یا دیگر شہروں میں تعمیرات بے ہنگم ہو رہی ہیں۔ بعض شہروں کا ماسٹر پلان ہے ہی نہیں۔ حکومتیں ماسٹرپلان پر عمل درآمد کا درس دیتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان راوی کا افتتاح کر رہے ہیں جس کا ماسٹر پلان تیار ہو چکا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جیل کا پراجیکٹ 2013میں شروع ہوا۔ فنڈز اور ٹیکنیکل ایشوز پر یہ تعطل کا شکار ہوا تاہم سینیٹ میٹنگ میں اس پر مفصل قسم کی بحث ہوئی۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ وزیراعظم اکیلے نہیں کرتے۔ اس ایک ایشو پر 30منٹ بحث ہوئی اور ایک ایک رکن سے سے اس پر رائے لی گئی۔یہ منصوبہ گرین ایریا پر شروع کیا گیا ۔ پی ٹی آئی گورنمنٹ کا بنیادی فلسفہ ہے کہ گرین پاکستان بنانا ہے۔ اب اس میں تھوڑا بہت کام ہو چکا ہے۔کابینہ نے اس پر فیصلہ کیا کہ ہم نے گرین ایریاز کو بحال کرناہے۔ 90ایکٹر کے قریب اراضی واگزار کروانی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں پہلا جو ناجائز تعمیرات ہیں و ہ گرانا ہے اور دوسرا اس معاملے میں اجازت نامے دینے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کاروائی کرنی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیل ہماری ضرورت ہے۔ ابھی ملزموں کو پنڈی سے لے جایا جاتا ہے۔ جیل بنے گی ضرور مگر اس کیلئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی مشاورت سے علیحدہ جگہ مختص کی جائیگی۔ 7سال ہوچکے ، یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔ اس کیلئے متبادل جگہ تلاش کی جائے اور اس پر فوری کام شروع کیا جائے۔ آج سے 25لاکھ بچے دوبارہ سکولوں میں جانا شروع ہو گئے ہیں۔ کرونا کے سبب ان کا وقت ضائع ہو رہا تھا۔ ہماری والدین اور سکول منتظمین سے درخواست ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ہم نے دیکھا کہ کورونا کے بعد پہلے معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور اب تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔ آج کچھ ضروری ادویات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بھی کابینہ نے منظوری دی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*