اپوزیشن   کا  مک مکا حکومت  کی بڑی  قانون  سازی- 240 پارلمینٹرین  مے  سے  اپوزیشن 190 تک  محدود  اسد  قیصر  نے  اپوزیشن کو  استعفوں  کا  مشورہ  دے دیا- صوابی  کے  اپوزیشن سینٹر  اور  سپیکر کے  درمیان  تلخ کلامی  بچپن کے  قصے- انٹی  منی  لانڈرگ سمیت  8 بلوں  کی  منظوری  اپوزیشن  نے  ایجنڈے  کی  کاپیاں  پھاڑ  دی  سپیکر  نے  اپوزیشن  کو  مکمل  ناک اوٹ  کر دیا- اپوزیشن  پارلمینترین کو  اسمبلی مے  نہ  لا  سکی عوام  کی  انکھوں  مے  دھول  صرف  پریس کانفرس  تک  محدود Click on the link to see full news on BAADBAN TV

اسلام آباد (بادبان ٹی وی اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے انسداد دہشتگردی تیسرا ترمیمی بل، اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل اور اسلام آباد وقف املاک بل منظور کرلئے جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کرنے کی تحریک پر رائے شماری کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا ، بات حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی تک چلی گئی اور اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کی جانب اچھال دیں، کئی اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا ۔ بدھ کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات کی روشنی میں اہم معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جسمیں بابر اعوان نے وقف املاک بل 2020 منظوری کیلئے پیش کیا اپوزیشن اراکین نے مخالفت اوراحتجاج کرتے ہوئے نشستوں پر کھڑے ہو گئے،اپوزیشن اراکین نے وائس ووٹنگ چیلنج کر دی،اسپیکر نے حق اور مخالفت میں ووٹ دینے واکے اراکین کی گنتی کی ہدایت کر دی، اسلام آباد وقف املاک بل کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی اور حکومتی رکن کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی ،آس پاس کے ارکان نے درمیان میں آکر بیچ بچائو کرایا،اپوزیشن نے گنتی کے دوران ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے ۔حکومت کو 200ووٹ اور اپوزیشن کو 190ووٹ ملے اور اس طرح حکومتی تحریک منظورکرلی گئی ۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، مولانا صلاح الدین اور مسلم لیگ ن کے رانا ثناء اللہ سپیکر ڈائس کے سامنے پہنچے اور میاں رضا ربانی نے ووٹنگ پر اعتراض کردیا۔ میاں رضا ربانی نے کہاکہ ظہیر الدین بابر وزیراعظم عمران کے پارلیمانی امور کے مشیر ہیں ،بابر اعوان کو بطور مشیر بل پیش کرنے کا اختیار نہیں ہے، اس وقت وزارت پارلیمانی امور کے انچارج وزیر خود وزیراعظم عمران خان ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خصوصی معاون اور مشیران پانچ تک ہوسکتے ہیں ،بابر اعوان آئین کے مطابق مشیر متعین ہوئے ہیں مگر وہ وزیر نہیں ہیں ،ان کے پاس وزیر کے برابر کا عہدہ ضرور ہے مگر وزیر کے برابر کے اختیارات نہیں ہیں ،یہ ایڈوائز اور معاونت کرسکتے ہیں مگر ان کا اختیار اس سے زیادہ کا نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کہتا ہے کہ مشیران کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایوان میں بیٹھ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ نہیں دے سکتے ،حکومت کی ترجمانی صرف اور صرف وفاقی وزیر ہی کرسکتے ہیں۔رضا ربانی نے کہاکہ اگر قوانین کو دیکھیں تو کہا گیا ہے کہ منسٹر انچارچ وزیراعظم ہیں،وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان وزیر نہیں ہیں،وزیر کی عدم موجودگی میں مشیر بل پیش کر سکتا ہے چونکہ وزیر اعظم خود پارلیمانی امور کے سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں،ان کے پاس اسٹیٹس وزیر کا ہے مگر وہ وزیر نہیں ہیں،اگر وزیر اعظم خود موجود ہیں ہیں تو ان کی موجودگی میں بابر اعوان بل پیش نہیں کر سکتے،5 مشیروں کے کیے رعایت ہے کہ وہ ایوان میں بار کر سکتے ہیں اور جواب دے سکتے ہیںمشیر حکومت کا ترجمان نہیں بن سکتے نا ہی بک پیش کر سکتے ہیں۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ وزیر اعظم کے مشیر پر قدغن صرف ایوان میں ووٹ دینے کی حد تک ہے،رضا ربانی صاحب نے جو بات کی وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ میں نہیں ہے،وزیر اعظم کے مشیر ایوان میں بل پیش کرسکتے ہیں۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ آئین میں لکھا ہے وفاقی وزیر وزرائے مملکت اور مشیر سب کچھ کرسکتے ہیں ووٹ نہیں دے سکتے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ایسا کچھ نہیں ہے رضا ربانی دکھا دیں ،رضا ربانی دکھا دیں ہم فیصلہ واپس لے لیں گے ،ہائی کورٹ کے فیصلے میں نہیں لکھا کہ وہ تحریک یا کوئی دوسرا عمل نہیں کرسکتے۔اجلاس کے دور ان سینیٹر مشتاق احمد نشست پر کھڑے ہوگئے اور کہاکہ آپ نے مجھے میری ترمیم پر بولنے کا موقع نہیں دیا، آپ ایف اے ٹی اے کی غلامی میں پارلیمنٹ کی توہین کررہے ہیں،اسپیکر نے سینیٹر مشتاق احمد کو مائیک دیدیا،سینیٹر مشتاق احمد کی ترمیم مسترد کردی گئی۔ اسپیکر نے سینیٹر مشتاق سے مخاطب ہو کر کہاکہ کیا آپ کو تقریر کا شوق ہے ؟ ۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ مجھے تقریر کا شوق نہیں ، قواعد کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ بعد ازاں کثرت رائے سے وقف املاک بل سے اپوزیشن کی ترمیم مسترد کردی گئی اس دور ان اپوزیشن کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، اپوزیشن کی جانب سے بل کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کی جانب اچھال دیں۔ مسلم لیگ ن کے رکن مرتضی جاوید عباسی نے کاغذات پھاڑ کر سپیکر ڈائس کی جانب اچھالے ،کچھ کاغذ سپیکر کے سامنے جاکر گرے،اپوزیشن کے ایک درجن کے قریب ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا،مرتضیٰ جاوید عباسی نے بل کی کاپی پھاڑ کر اسپیکر کی طرف پھینک دی۔ اجلاس کے دور ان جماعت اسلامی کے سینیٹر اپنی ترامیم پیش کرتے ہویے جذباتی ہوگئے ۔ اسد قیصر نے کہاکہ سینیٹر مشتاق صاحب آپ اور میں صوابی سے ہیں، اس کا خیال ہے۔ سینیٹر مشتاق نے کہاکہ آپ دستور کا اور اس ایوان کا خیال کریں۔ اسپیکر نے کہاکہ میں جانتا ہوں آپ اچھے مقرر ہیں، اچھی طرح واقف ہوں آپ سے ۔ اجلاس کے دور ان بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل پیش کیا جو مشترکہ اجلاس سے منظور ہوگیا ،اپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کردیا گیا،اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل ایوان بالا سے مسترد ہونے کی وجہ سے مشترکہ اجلاس میں لایا گیا تھا، اس دور ان اپوزیشن نے سپیکر کو آزاد کرو، پارلیمان کو آزاد کرو کے نعرے لگائے ۔اپوزیشن کے مطالبے پر سپیکر نے بلاول بھٹو زرداری کو فلور دیدیا ،شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کو اظہار خیال کے لئے فلور دینے پر اعتراض اٹھادیا اور کہاکہ جس کی ترمیم ہے اسے ہی بات کی اجازت دی جاسکتی ہے ،اگر بلاول بھٹو کی کوئی ترمیم ہے تو ضرور بات کریں ،بلاول بھٹو کو موقع فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا ۔ اپوزیشن نے کہاکہ بلاول بھٹو نہیں بول سکتے تو اپوزیشن لیڈر کو فلور تو دیا جاسکتا ہے، ،سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کو فلور دیدیا، ساتھ ہی اذان مغرب آگئی۔ اپوزیشن لیڈر کو فلور دینے پر بھی حکومتی ارکان نے اعتراض اٹھا دیا اور بابر اعوان نے قومی اسمبلی کے قاعدہ 131 پڑھ کر سنادیا اور کہاکہ کسی بھی بل کی منظوری میں ترمیم جمع کرانے والے ممبر کے علاوہ کوئی اور ممبر بات نہیں کرسکتا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آپ جس طرح ایوان چلا رہے ہیں اس طرح رے اراکین کی عزت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسد قیصر نے کہاکہ میں رولز کے مطابق چل رہا ہوں۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ پہلے بحث ہونی چاہیے میرا کام ہے آپ کو رولز بتانا۔ انہوںنے کہاکہ یہان معلوم نہیں آپ کونسی ترامیم پر بات کروا رہے ہیں ،رولز 26 کے مطابق کسی بھی ترمیم پر بحث کرانا ضروری ہے ۔اسد قیصر نے کہاکہ بل پر پہلے بحث ہوچکی ہے، اب منظوری کا عمل شروع ہے ۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ میری آپ سے استدعا ہے کہ رولز 126 کی بھی و ضاحت کریں ،سپیکر نے شاہد خاقان عباسی کے اعتراض کو نظر انداز کرتے ہویے منی لانڈرنگ بل پر شق منظوری شروع کرادی ،اینٹی منی لانڈرنگ بل پر شاہد خاقان عباسی کی پہلی ترمیم مسترد کردی گئی اس دور ان اسپیکر نے مائک ملیکہ بخاری کو دے دیااور اجلاس کے دور ان اپوزیشن کی ترامیم مسترد ہونے پر تمام اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کرگئی بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اینٹی منی لانڈرنگ دوسری ترمیم 2020 منظور کرلیا گیا ،بل مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا،۔اجلاس کے در ان ملکیہ بخاری کی تمام ترامیم منظور کرلی گئیں،مشترکہ اجلاس میں سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل پاس کرلیا گیا،بابر اعوان کی جانب سے فن مساحت نقشہ کشی ایکٹ 2014 میں ترمیم کا بل ایوان پیش کیا گیا جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔ اجلاس کے دور ان بابر اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2019 مشترکہ اجلاس میں پیش کردیا گیاجو کثرات رائے سے منظو ر کرلیا گیا ۔ اجلاس کے درو ان انسداد دہشتگری ایکٹ 1997 میں تیسری ترمیم کا بل 2020 ایوان فہیم خان نے پیش کیا بعد ازاں انسداد دہشتگری ایکٹ 1997 میں تیسری ترمیم کا بل 2 ہزار 20 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ اجلاس کے دور ان اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل بھی کثرت رائے سے منظورکرلیا ۔ حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی فائدہ اٹھاتے ہوئے ایوان میں ضمنی ایجنڈا پیش کر دیااورپاکستان میڈیکل کمیشن بل 2019 بھی ایوان میں پیش کر دیا گیااجلاس کے دور ان پاکستان میڈیکل ٹریبونل بل منظور کرلیا گیا۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اسلام آباد میں معذوروں کے حقوق کا بل پیش کیا جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کئے گئے اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کیلئے زمین وقف کرنے سے پہلے رجسٹرڈ کرانا ہوگی، مدارس اور دیگر فلاحی کاموں کیلئے زمین وقف کرنے سے قبل رجسٹر کرانا ہوگی،بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں آجائیں گی، وقف املاک پرقائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت انتظام سنبھال سکے گی،بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کریگی، منتظم اعلیٰ کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کوبھی روک سکے گا۔خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے اراکین کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھی ایوان میں موجود تھے۔قبل ازیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اجلاس کی اہمیت سمجھیں، پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف بلز کو منظور کرانا ہے، تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔اسپیکر کی طرف سے تاریخی قانون سازی پر ارکان پارلیمنٹ کو مبارک باد دی گئی جس کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*