فوجی گھرانے ایک سفید پوش طبقہ ہے جو اپنا آپ عوام کے سامنے نہیں لاتے جس سے لُٹیرے سیاست دانوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملتا ہے زیر نظر تصاویر میں ‏30 سال پرانی گاڑی، سادہ کپڑوں ، میں ملبوس ایک جنرل خاموشی کی موت مر گیا جرنیلوں کی عیاشی پہ رونے والوں یہ ریٹائرڈ جنرل مظفر عثمانی ہیں شائد اس جنرل کی سادگی اور بے بسی بھی عوام کے سامنے نا آتی لیکن اس لاش کی شناخت نے سیاست دانوں کے جھوٹ کو سامنے لانا تھا Click on the link to see full news on BAADBAN TV

فوجی گھرانے ایک سفید پوش طبقہ ہے جو اپنا آپ عوام کے سامنے نہیں لاتے جس سے لُٹیرے سیاست دانوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملتا ہے
زیر نظر تصاویر میں ‏30 سال پرانی گاڑی، سادہ کپڑوں ، میں ملبوس ایک جنرل خاموشی کی موت مر گیا
جرنیلوں کی عیاشی پہ رونے والوں یہ ریٹائرڈ جنرل مظفر عثمانی ہیں


شائد اس جنرل کی سادگی اور بے بسی بھی عوام کے سامنے نا آتی لیکن اس لاش کی شناخت نے سیاست دانوں کے جھوٹ کو سامنے لانا تھا
جنرل مظفر حسین عثمانی ڈیفنس فیز 8 میں دو دریا کے قریب کار چلا رہے تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ کار میں ہی انتقال کرگئے۔پولیس اہلکاروں نے ایدھی رضاکاروں کی مدد سے میت پی این ایس شفاء اسپتال منتقل کی یہاں ان کی شناخت ہوئی ۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظفر حسین عثمانی مشرف دور کے بااثر جنرل تھے اور کور کمانڈر کراچی کے علاوہ ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
90 ماڈل کی گاڑی میں بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس یہ جنرل کہہ رہا ہے دیکھو میری طرف
پاکستان کی جرنیل بہت عیاش ہیں
باہر جزیرے خرید رکھے ہیں (اگر الزام لگانے والوں سے ثبوت مانگو تو ثبوت خود تلاش کریں کی دہائی)
جنرل کی پزا فرنچائزز ہیں 90 کمپنیاں ہیں(ثبوت مانگو تو جنرل کے بھاییوں کی تمام عمر کی محنت کے بعد حاصل کی گئ فرنچائزز دکھائی جاتی ہیں جو انھوں نے زمانہ طالب علمی میں اپنا خرچ اٹھانے کے لیے پزا شاپس میں کام کر کر کے بلاآخر ایک سے دو اور دو سے تین رینٹ پہ جگہ لیکر اپنا کاروبار بڑھاتے گئے یہ پیزا شاپس ہیں فیکٹریاں نہیں


یہ فوج کے بغض میں مبتلا گدھ جنرل باجوہ کے نام کوئی کاروبار یا ایک بھی فرنچائزز جب نا دکھا سکے تو کہا اپنے بھائیوں کی فرنچائزز کا حساب دو)
بھاییوں کے پاس پوری منی ٹریل ہے الزام لگانے والے اس پہ خوش ہیں کے ایک جنرل نے ان کے الزامات کا جواب دیکر انھیں اہمیت دی حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ جیسے پی ٹی آئی
نواز شریف کو عدالت لے گئ تھی یہ بھی لے جاتے تاکہ ان کے بھائیوں کی منی ٹریل دیکھ کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا لیکن یہاں تو ایسا کچھ مقصود تھا ہی نہیں
جنرل کی بیوی نے اپنی بچت سے اپنے دیوروں کے کاروبار میں پیسے لگائے اور وہ اماؤنٹ مریم بیبی کے ماہانہ ملبوسات جوتوں اور اسیسریز سے کہیں کم تھی
لیکن پمپی چاٹوں کو اس سے مطلب نہیں انھیں صرف اس بین پہ آنکھیں بند کرکے ناچنا ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*