پشاور جلسہ ، حکومت کا اجازت سے انکار، اپوزیشن کا دم مست قلندر کا اعلان عوامی اجتماعات سے کورونا کے بڑے پیمانے پرپھیلنے کا خدشہ ہے، مذکورہ صورت حال میں انسانی جانوں کوبچانے کی غرض سے جلسہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، صوبائی حکومت پی ٹی آئی کی بی ٹیم ہے، این او سی نہ دینا حکومتی چال ہے، عمران خان اور محمود خان نے کس کی اجازت سے جلسے کئے، 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا، ایمل ولی خان Click on the link to see full news on BAADBAN TV

پشاور جلسہ ، حکومت کا اجازت سے انکار، اپوزیشن کا دم مست قلندر کا اعلان
عوامی اجتماعات سے کورونا کے بڑے پیمانے پرپھیلنے کا خدشہ ہے، مذکورہ صورت حال میں انسانی جانوں کوبچانے کی غرض سے جلسہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، صوبائی حکومت
پی ٹی آئی کی بی ٹیم ہے، این او سی نہ دینا حکومتی چال ہے، عمران خان اور محمود خان نے کس کی اجازت سے جلسے کئے، 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا، ایمل ولی خان
پی ڈی ایم کا جلسہ ہر صورت میں ہوگا،پشاور جلسے سے حکومت خوفزدہ ہے، ابھی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہونا ہے،ناکام حکومت کے پاس وقت کم رہ گیا ہے،شیری رحمان


پشاور( ) پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا وبا کے پھیلا ئوکے پیش نظرپی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پشاورمیں ضلعی انتظامیہ نے کورونا وبا کے پھیلائوکے خطرے کے پیش نظرپی ڈی ایم کوجلسے کی اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوامی اجتماعات سے گریزاختیارکرنے کی ہدایت کی ہے۔ڈپٹی کمشنرکے مطابق ضلع پشاورمیں اس وقت کورونا کی شرح 13 فیصد سے بھی بڑھ گئی ، بڑے عوامی اجتماعات سے کورونا کے بڑے پیمانے پرپھیلنے کا خدشہ ہے، مذکورہ صورت حال اورکورونا وائرس سے انسانی جانوں کوبچانے کی غرض سے جلسہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔واضح رہے کہ جلسہ کے لیے اجازت نامہ کی درخواست فیصل کریم کنڈی، سردارحسین بابک، مولانا عطا الحق درویش، مرتضیٰ جاوید عباسی اورہاشم بابرنے فوکل پرسن عبدالجلیل جان کے توسط سے ڈی سی پشاورکودی تھی۔اپوزیشن رہنماں نے کہا ہے کہ 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا، ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی بی ٹیم ہے، این او سی نہ دینا حکومتی چال ہے، عمران خان اور محمود خان نے کس کی اجازت سے جلسے کئے۔پیپلزپارٹی نے پشاور پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا پشاور میں جلسہ ہر صورت میں ہوگا، ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی بی ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے، خیبر پختونخوا کے عوام اور جیالے تیاری کرلیں، 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا۔ن لیگ کے صوبائی ترجمان اختیار ولی کا کہنا تھا پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینا امتیازی سلوک ہے، عمران اور محمود خان نے کس کی اجازت سے سوات مہمند، باجوڑمیں جلسے کئے ؟۔واضح رہے پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کو شہر میں جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ عوامی اجتماع کے باعث کورونا مزید پھیلنے کا شدید خدشہ ہے، شہر میں کورونا کی دوسری لہر آنے کے سبب کیسز میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کے رہنماں کو مراسلہ ارسال کر دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پشاور میں پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہ دینا حکومتی گھبراہٹ کا ثبوت ہے، پی ڈی ایم کا جلسہ ہر صورت میں ہوگا،پشاور جلسے سے حکومت خوفزدہ ہے، ابھی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہونا ہے،ناکام حکومت کے پاس وقت کم رہ گیا ہے۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخواہ حکومت پشاور میں پی ڈی ایم کے بینرز اور پوسٹر اتار رہی ہے، تحریک انصاف کی حکومت جلسے میں رکاوٹیں مت ڈالے، پی ڈی ایم کا جلسہ ہر صورت میں ہوگا، پشاور جلسے سے حکومت خوفزدہ ہے، ابھی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہونا ہے، کیا وزیراعظم کے جلسے اور تقریبات کورونا ایس او پیز کے مطابق ہیں؟ کورونا کی آڑ میں پی ڈی ایم کے عوامی جلسوں کو نہیں روکا جا سکتا، عوام پی ڈے ایم کے جلسے میں ضرور شرکت کرے گی ،ناکام حکومت کے پاس وقت کم رہ گیا ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*