آج کی پریس بریفنگ کا مقصد ملک کی مجموعی سیکورٹی اور بارڈرز کی حالیہ صورتحال کے ساتھ ساتھ، گزشتہ دہائی کے سیکورٹی Challenges کا تقابلی جائزہ اور چند دیگر اہم اُمور کے حوالے سے آگاہی دینا ہے۔ Click on the link to see full news on BAADBAN TV

۔ آج کی پریس بریفنگ کا مقصد ملک کی مجموعی سیکورٹی اور بارڈرز کی حالیہ صورتحال کے ساتھ ساتھ، گزشتہ دہائی کے سیکورٹی Challenges کا تقابلی جائزہ اور چند دیگر اہم اُمور کے حوالے سے آگاہی دینا ہے۔
۔ گزشتہ 10سال ہر لحاظ سے Challenging وقت تھا۔
۔ 2020 کی ہی بات کریں تو اس میں کرونا جیسی عالمی وَبا، Locust Threatجس کے نتیجے میں Economyاور خاص کر فوڈ سیکورٹی کو شدید خطرات لاحق تھے۔
۔ پچھلی دہائی میں ایک طرف مشرقی سرحد اور LOCپر ہندوستان کی شر انگیزیزیاں جاری تھیں تو دوسری جانب مغربی سرحد پر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے جوڑ توڑ اور پُشت پناہی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا تھا۔
۔ ان تمام Challenges کے باجود، ریاست، تمام قومی اداروں، افواجِ پاکستان، انٹیلی جنس ایجنسیز اور سب سے اہم پاکستانی عوام نے متحد ہو کران مشکلات کا بھرپورمقابلہ کیا اور بحیثیت قوم الحمد اللہ تعالیٰ نے ہمیں سُر خرو کیا۔
۔ مغربی سرحد پرقبائلی اضلاع میں امن بحال کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں Socio-Economicپراجیکٹس کا آغاز کیا جا چُکاہے۔
۔ پاک -افغان اور پاک -ایران سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے مربوط اقدامات کئے گئے۔دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی۔
۔ ہندوستان کے مزموم عزائم ہوں یا پاکستان کے خلاف
Hybrid Warfare کی Application، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی، ہم نے ہمیشہ Evidenceاور حقائق کے ذریعے اُن کی نشاندہی کی اور کامیابی سے مقابلہ بھی کیا اور اس چیز کو اب دُنیا ما ن رہی ہے۔
Because Truth Always Prevails

Operation Radd-ul-Fassad

۔ جن چیلنجز کا میں نے ابتداء میں ذکر کیا ہے اُس حوالے سے سیکورٹی Domainمیں جو اقدامات کیے گئے ہیں اُن میں سے چند اہم کا ذکر ضروری ہے۔
۔ آپریشن ردّالفساد میں Whole of Nation Approachکے ذریعے پوری دہائی کی Achievementsکو Consolidateکیا گیا۔
۔ اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی Support Base جس میں
Facilitators، Abettors اور Financierشامل ہیں اور غیر قانونی اسلحہ و بارود کا بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا۔
۔ الحمداللہ آج پاکستان میں کوئی Organized Terrorist / Infrastructure (Training Camps, Mkz, Log Base) ماضی کی نسبت موجود نہیں ہے۔
۔ آپریشن ردّالفساد کے تحت تین لاکھ اکہتر ہزار سے زیادہ (371,173) Intelligence Based Operations کئے گئے۔(22فروری2017سے اب تک-پچھلے تین سال)
۔ 72ہزار سے زائد اسلحہ،5ملین ایمونیشن اور449ٹن بارودریکور کیا گیا۔
۔ Manifestation of Successکو پیمانے پر اگر پرکھا جائے تو
2007 / 2008میں قبائلی اضلاع پر صرف 37%علاقے پر ریاستی عمل داری رہ گئی تھی۔
۔ آج الحمداللہ تمامTribal Districts، مکمل طور پر خیبر پختونخواہ کا حصہ بن چکے ہیں۔
۔ دہشت گردی کے بڑے واقعات میں 2019 کی نسبت 45%کمی واقع ہو ئی۔
۔ جبکہ دہشت گردی کے واقعات 2013میں اوسطاََ 90 Per Yearسے کم ہو کر 2020میں صرف 13رہ گئے۔
۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ سال، ملک بھر میں 50فیصد سے زائد Terrorist Threats کوAvert بھی کیا۔
۔ اگر پچھلی دو دہائیوں کی دہشت گردی کے واقعات کی Casualities کا جائزہ لیں تو 2013میں 414 Casulaties ہوئیں جبکہ2020 میں 98 Casulatiesہوئیں۔ جس میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
۔ خودکش حملوں میں 97%واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
۔ کراچی جو کہ آبادی کے لحاظ سے دُنیا کے بڑے شہروں میں 12ویں نمبرپر ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے۔ 2014میں کراچیCrime Indexمیں دُنیا میں چھٹے نمبر پر تھا۔
۔ 2020 میں Improveہو کر 103 نمبرپر آچکا ہے۔یہ Developed World کے بڑے Capitalsسے بہتر امن وامان کی صورتحال میں ہے۔
۔ کراچی میں دہشت گردی میں 95%، ٹارگٹ کلنگ98%،بھتہ خوری 99% جبکہ اغواء برائے تاوان کے واقعات میں 98% کمی واقع ہوئی ہے۔